تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 515

فعل سے توبہ کر لو تو رأس المال وصول کرنا تمہارے لئے جائز ہے۔گو ممکن ہے کہ اس عرصہ میں تم اصل مال سے بھی زیادہ سود لے چکے ہو۔وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا اور اگر (کوئی )مقروض تنگ حال ہو کر آئے تو آسودگی (حاصل ہونے) تک (اسے) مہلت دینی ہوگی۔اور اگرتم خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۲۸۱وَ اتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ سمجھ بوجھ رکھتے ہو تو جان لو کہ تمہارا (اس شخص کو رأس المال بھی) صدقہ (کے طور پر ) دےدینا سب سے اچھا (کام) فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ ہے۔اور اس دن سے کہ جس میں تمہیںاللہ کی طرف لوٹایا جائے گا ڈرو۔پھر ہر ایک شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہو گا پورا لَا يُظْلَمُوْنَؒ۰۰۲۸۲ (پورا)دے دیا جائے گا۔اور ان پر (کوئی )ظلم نہیں کیا جائے گا۔حلّ لُغات۔اَلنَّظِرَۃُ کے معنے ہیں اَلتَّأْخِیْرُ وَ الْاِمْھَالُ فِی الْاَمْرِ۔ادائیگی کے لئے مہلت دینا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔آج اگر تم لوگوں سے حسنِ سلوک کرو گے اور اپنے قرضوں کی وصولی میں نرمی سے کام لو گے تو یاد رکھو ایک دن تمہارا بھی حساب ہو گا اس دن تم سے بھی اچھا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے گناہوں سے درگذر کیا جائے گالیکن اگر آج تم نیک سلوک نہیں کروگے تو اس دن تم سے بھی کوئی نیک سلوک نہیں کیا جائے گا۔یہ وہی حکم ہے جس کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے باربار توجہ دلائی ہے اور فرمایا ہے کہ تم دنیا میں رحم سے کام لوتاکہ آسمان پر تمہارا خدابھی تم سے رحم کا سلوک کرے(ترمذی کتاب البرّ و الصّلۃ باب ما جاء فی رحمة الناس)۔