تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 511
گی۔اسی کی طرف ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ترتیب و ربط: چونکہ گذشتہ آیات میں خدا تعالیٰ کی راہ میں مال دینے کا ذکر تھا اس لئے یہ خیال ہو سکتا تھا کہ کیوں نہ سود پر روپیہ دیا جائے تاکہ غرباء کا بھی کام چل جائےاور روپیہ دینے والے بھی شوق سے روپیہ دے دیا کریں۔اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ سود لینے والوں کی حالت تو ایسی ہوتی ہے کہ گویا ان کو جنون ہو گیا ہے۔یعنی وہ خون چوسنے والی جونکیں بن جاتے ہیں۔نہ ان میں سوچنے اور سمجھنے کی قوت رہتی ہے اور نہ ہمدردی اور مواخات کا کوئی جذبہ ہوتا ہے۔پھر سود سے انسان کاہل اور سست ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اتنی آمدنی تو ضرور ہو جائے گی کوئی اور کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان محنت کرے اور اپنے آپ کو ملک اور قوم کے لئے مفید وجود بنائے۔اسی طرح صدقات کے بعد سود کا ذکر اس لئے بھی کیا گیا ہے کہ جو شخص اپنا مال خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑنے کو تیا رہو جائے گا وہ بےگانہ مال یعنی سود بھی آسانی سے چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے۔يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ اللہ سود کو مٹائے گا اور صدقوں کو بڑھائے گا۔اور اللہ( تعالیٰ )ہر كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ۰۰۲۷۷ بڑے کافر (اور) بڑے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔حلّ لُغات۔یَمْحَقُ مَحَقَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں اَبْطَلَہٗ وَ مَحَاہُ اسے باطل کر دیا اور مٹادیا۔اور مَحَقَ فُـلَانًا کے معنے ہیں اَھْلَکَہٗ۔اسے تباہ کر دیا۔اور مَحَقَ اللّٰہُ الشَّیْءَ کے معنے ہیں نَقَصَہٗ وَ ذَھَبَ بِبَرَکَتِہٖ۔اللہ تعالیٰ نے اسے کم کر دیا اور اس کی برکت کو لے گیا۔(اقرب) یُرْبیْ اَرْبَی الشَّیْءَ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ یَرْبُوْا اللہ تعالیٰ نے اسے بڑھا دیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ سود کو مٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا۔یعنی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ترقی عطا فرمائے گا جو سود سے پرہیز کریں گے اور صدقات پر زور دیں گے۔اس میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب اسلام کی تعلیم اپنی مکمل صورت میں دنیا میں قائم کی جائے گی۔اور ربوٰا جسے مال کو بڑھانے والا قرار دیا جاتا ہے وہ مٹا دیا جائے گا اور صدقات جنہیں مال کو گھٹانے والا قرار دیا جاتا ہے ان کی بے انتہا زیادتی