تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 47
اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صبرو صلوٰۃ دونوں پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔کیونکہ دعا بھی وہی قبول ہوتی ہے جو استقلال سے کی جائے۔پس اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے کے یہ معنے ہیں کہ اگر صبر اور صلوٰۃ کے ذرائع کو استقلال سے استعمال کر و گے تو کامیاب ہو جاؤگے۔اِس آیت میں اُن لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے جو کچھ عرصہ تکلیف برداشت کرتے اور یہ کہنے لگے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو ہماری سُنتا ہی نہیں۔ہم تو اُسے پکار پکار کر تھک گئے اب دعا کرنے کا کیا فائدہ۔اور بعض لوگوں کو تو اس قدر ٹھوکر لگتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے ہی منکر ہو جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ کہہ کر بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اسی کوحاصل ہوگی جو مشکلات کے وقت استقامت دکھائے گا اور صبر اور صلوٰ ۃ کے ذرائع کو استقلال سے استعمال کرتا چلا جائے گا۔وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کے متعلق (یہ) مت کہو کہ وہ مردہ ہیں۔(وہ مردہ)نہیں بلکہ زندہ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۰۰۱۵۵ ہیں مگر تم نہیںسمجھتے۔حل لغات۔لَاتَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ۔جب قَالَ کے بعد صلہ کے طور پر لام آئے تو اُس کے معنے خطاب کے ہوتے ہیں۔چنانچہ جب قَالَ لِفُلَانٍ کہیں تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اُس نے فلاں کو کہا۔اِسی طرح قَالَ لِفُلَانٍکے یہ بھی معنے ہوتے ہیں کہ اُس کے حق میں کہا۔پس اس آیت میں دونوں معنے ہیں۔یہ بھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جاتےہیں ان کو مردہ مت کہواور یہ بھی کہ تم اُن کے بارہ میں یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں۔اس آیت میں اَمْوَاتٌ سے پہلے اور بَلْ کے بعد دونوں جگہ ھُمْ محذوف ہے۔پس عبارت یوں ہوگی ھُمْ اَمْوَاتٌ بَلْ ھُمْ اَحْیَآءٌ۔اَمْوَاتٌ۔اَمْوَاتًا۔مَیِّتٌ اور مَیْتٌ کی جمع ہے اور مَیِّتٌ اور مَیْتٌکے معنے ہیں اَلَّذِیْ فَارَقَ الْـحَیٰوۃَ جو زندگی سے علیحدہ ہو جاوے (اقرب)اور میّت اسے کہتے ہیں جس پر موت وارد ہو اور موت حیات کے