تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 48
مقابل کا لفظ ہے جو معنی حیات کے ہوں اس کے الٹ معنے موت کے ہوتے ہیں۔تَشْعُرُوْنَ۔شَعَرَ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے۔شَعَرَہٗ کے معنے ہیں عَلِمَ بِہٖ اس کو جانا۔شَعَرَ لِکَذَا فَطَنَ لَہٗ اس کو خوب سمجھ لیا۔عَقَلَہٗ اس کو جان لیا۔وَاَحَسَّ بِہٖ اس کو محسوس کیا (اقرب) تاج العروس میں ہے اَلشِّعْرُ ھُوَا لْعِلْمُ بِدَقَائِقِ الْاُمُوْرِ وَ قِـیْلَ ھُوَ الْاِدْرَاکُ بِالْـحَوَاسِ کہ شعر علم کی وہ قسم ہے جس کے ذریعہ سے امور کی باریکیاں معلوم ہو سکیں۔اور بعض نے کہا ہے کہ حواس کے ذریعہ سے کسی امر کو معلوم کر لینا شِعْرکہلاتا ہے۔پس لَا تَشْعُرُوْنَ کے معنے ہوں گے تم نہیں جانتے۔تفسیر۔اِس آیت میں خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو اس لئے زندہ کہا گیا ہے کہ اہل عرب میں یہ رواج تھا کہ جو لوگ مارے جائیں اور اُن کا بدلہ لے لیا جائے اُن کے لئے تو وہ اَحْیَاءٌ کا لفظ استعمال کرتے تھے اور اُن کو زندہ کہتے تھے۔لیکن جن مقتولوں کا بدلہ نہ لیا جائے وہ انہیں اَمْوَاتٌ یعنی مردے کہا کرتے تھے۔یہ محاورہ اُن میں اس لئے رائج ہوا کہ عربوں میں یہ مشہور تھا کہ جو شخص ماراجائے اور اس کا بدلہ نہ لیا جائے اُس کی روح اُلّو کی شکل میں آکر چیختی رہتی ہے اور جب اس کا بدلہ لے لیا جائے تب وہ آرام کرتی ہے۔اس سے ان میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ جس مقتول کا بدلہ لے لیا جائے وہ زندہ ہوتا ہے۔اور جس کا بدلہ نہ لیا جائے وہ مردہ ہوتا ہے۔چنانچہ انہی معنوں میں ایک شاعر حارث بن حلزہ نے کہا ہے کہ ؎ اِنْ نَبَشْتُمْ مَا بَیْنَ مِلْحَۃَ فَالصَّا قِبِ فِیْہِ الْأَ مْوَاتُ وَ الْأَ حْیَآءُ (سبعۃ معلقات قصیدہ نمبر۷) اس میں شاعر فریق مخالف کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تم بڑے شریف اور معزز ہو مگر ایسا ہرگز نہیں تم ملحہ اور صاقب کے درمیان جہاں ہمارے اور تمہارے در میان جنگ ہوئی تھی جائو اور وہاں قبریں کھود کر دیکھو تو اُن میں تمہیں کچھ مردے دکھائی دیں گے اور کچھ زندہ۔یعنی تم نے اپنی قوم کے مقتولوں کا بدلہ نہیں لیا۔اس لئے وہ مردہ ہیں مگر ہمارے جو آدمی نکلیں گے وہ بزبان حال بتاتے جائیں گے کہ وہ زندہ ہیں کیونکہ ان کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔اُن میں اس بارہ میں اتنی غیرت تھی کہ اگر کسی مقتول کا بدلہ نہ لیا جاتا تو وہ اُسے حد درجہ کی بے غیرتی سمجھتے تھے کیونکہ ان میں یہ روایت چلی آتی تھی کہ جس مقتول کا بدلہ نہ لیا جائے اس کی رُوح اُلّو بن کر رات دن چیختی رہتی ہے اور جب اس کا بدلہ لے لیا جائے تب وہ نجات پاتی ہے۔پس شاعر کہتا ہے کہ تم ہمارے باپ دادوں کی قبریں کھود کر دیکھو اور ان سے پوچھو کہ ان کا بدلہ لے لیا گیا ہے یا نہیں ہم نے ان کی بجائے دشمن قبیلہ کے کئی کئی اشخاص مار دیئے