تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 46
جو شخص قربانیوں سے ہچکچاتا اور خدا تعالیٰ کی عاید کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر رہتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔جو شخص دعا نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ طور پر گڑ گڑاتا نہیں اور اس کے باوجود اس کی معجزانہ تائید کا امیدوار رہتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔جو شخص دین کے معاملے میں غیرت سے کام نہیں لیتا اور اس کی ترقی میں ممد نہیں ہوتاوہ دشمنوں کے مقابلہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔جوشخص غرباء اور مساکین پر شفقت نہیں کرتا اور اُن کی مشکلات کو دُور کرنے میں ہاتھ نہیں بٹاتا وہ اپنی مشکلات کے وقت خدا تعالیٰ کی تائید حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر درود نہیں بھیجتا۔اُن کے لئے دعائیں نہیں کرتا اور ان کے احسانات کے شکریہ کا احساس اپنے دل میں نہیں رکھتاوہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنےمیں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔جو شخص عبادت اور خدمت دین کے لئے اپنی ساری عمر وقف نہیں کرتا۔وہ قرب الٰہی کے اعلیٰ مدارج پانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔پھر باوجود ان سب باتوں پر عمل کرنے کے جوشخص یہ محسوس نہیں کرتا کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا اور اپنے عمل پر اِتراتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔لوگ منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ لیکن یہ نہیں جانتے کہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہنے کے ساتھ کن کن باتوں کی ضرورت ہے۔وہ ڈاکخانہ میں روپے منی آرڈر کرانے کے لئے جاتے ہیں تو منی آرڈر فارم ساتھ لے کر جاتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب تک منی آرڈر فارم پُر نہیں کیا جائے گا روپیہ پوسٹ نہیں ہو سکتا۔یا وہ ڈاکخانہ میں خط ڈالنے جاتے ہیں تو اس پر ٹکٹ لگاتے ہیں ورنہ وہ بیرنگ کر دیا جاتا ہے۔مدرسہ میں داخل ہونے کے وقت وہ فارم پُر کرتے ہیں جو داخلہ کے لئے محکمہ تعلیم کی طرف سے مقرر ہوتا ہے۔امتحان کے لئے یونیورسٹی کا فارم پُر کرتے ہیںاور اس میں ذراسی غلطی ہونے سے بھی اُن کا دل دھڑکنے لگ جاتا ہے۔اور وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں کام خراب نہ ہو جائے۔مگر خدا تعالیٰ سے بغیر کوئی فارم پُر کرنے کے اور بغیر کسی شرط پر عمل کرنے کے یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ حضور اپنے ملائکہ کی فوج بھیج کر ہماری مدد کیجیئےحالانکہ وہ نہیں جانتے کہ یہاں بھی ایک فارم کی ضرورت ہے۔جب تک وہ فارم پُر کر کے اُس پر دستخط نہ کئے جائیں اُس وقت تک خدا تعالیٰ کی نصرت شامل حال نہیں ہو سکتی اور وہ صبر اور صلوٰۃ کا فارم ہے۔جب تک صبر اور صلوٰ ۃ کے فارم پر دستخط نہ کروگے تب تک خدا تعالیٰ کی مدد تمہیں حاصل نہیں ہو سکے گی۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے صلوٰۃ کے لفظ کو اُڑادیا ہے۔اور صرف مَعَ الصّٰبِرِیْنَکے الفاظ رکھے ہیں۔مَعَ الْمُصَلِّیْنَ نہیں فرمایا۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں صابر کا لفظ اپنے اندر استقلال کے معنے رکھتا ہے اور صابر کا لفظ صرف صبر کا قائم مقام نہیں بلکہ صبر اور صلوٰۃ دونوں کا قائم مقام ہے۔پس اس کے صرف یہ معنے نہیں کہ