تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 499
پھر پیو۔میں نے پھر پیا۔آپ نے فرمایا پھر پیو۔آخر میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! اب تو میرے ناخنوں تک دودھ کی تراوت پہنچ گئی ہے۔اس پر آپ نے وہ پیالہ میرے ہاتھ سے لے لیا اور خود پی لیا(بخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم)۔یہ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ کی صداقت کا کتنا زبردست ثبوت ہے۔غرض اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی یہ خوبی بتائی گئی ہے کہ ہمارا رسول ایسے محتاجوں کو ان کی علامتوں سے پہچان لیتا ہے۔پس اے مسلمانو! تم بھی ان کو پہچاننے کی کوشش کیا کرو۔لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا کے یہ معنے نہیں کہ وہ سوال تو کرتے ہیں مگر لوگوں سے چمٹ کر نہیں صرف نرمی سے مانگ لیتے ہیں۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ لوگوں سے سوال ہی نہیں کرتے۔گویا اِلحاف سوال کو مقید کرنے کے لئے نہیں بلکہ سوال کی شناعت بیان کرنے کے لئے ہے۔یعنی وہ الحاف نہیں کر سکتے۔کیونکہ الحاف چاہتا ہے کہ انسان دائماً مسئول عنہ کے ساتھ لگا رہے اور وہ خدا کے لئے وقف ہو چکے ہیں۔پس وہ اپنی غربت چھپانے کے لئے امراء کا سایہ بننے سے بھی گریز کرتے ہیں اور اس طرح دوسرے لوگوں سے جو سوال مجسم بن کر انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے اس سے بھی محروم رہتے ہیں۔گویا یہ الفاظ بطور تفسیر ہیں نہ کہ بطور قید۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بھی یہی معنے ثابت ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ اَوِالتَّمْرَتَانِ وَ لَا اللُّقْمَۃُ وَ لَا اللُّقْمَتَانِ اِنَّمَا الْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ یَتَعَفَّفُ وَ اقْرَءُ وْ ا اِنْ شِئْتُمْ یَعْنِیْ قَوْلَہٗ لَایَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا (بخاری کتاب التفسیرباب قول اللہ عزّوجلّ لا یسئلون الناس الحافًا) یعنی مسکین وہ نہیں جسے ایک یا دو کھجوریں یا ایک لقمہ یا دو لقمے دے دیں بلکہ مسکین وہ ہے جو سوال ہی نہیں کرتا۔یہ اِلحاف کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تفسیر بیان فرمائی ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے۔لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ یَطُوْفُ عَلَی النَّاسِ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَ اللُّقْمَتَانِ وَ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ وَ لٰـکِنَّ الْمِسْکِیْنَ الَّذِیْ لَایَجِدُ غِنًی یُغْنِیْہِ وَلَایُفْطَنُ بِہٖ فَیُتَصَدَّقَ عَلَیْہِ وَلَایَقُوْمُ فَیَسْئَلُ النَّاسَ۔(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول اللہ عزّوجل لَایَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا)یعنی مسکین وہ نہیں جو لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے اور اسے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں مل جاتی ہیں بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کوئی مال نہ ہو اور نہ لوگوں کو اس کے متعلق معلوم ہو کہ وہ اسے صدقہ ہی دے دیں اور نہ ہی وہ لوگوں سے سوال کر کے اپنی حاجت پوری کرے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسکین دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو لوگوں سے سوال کرتے پھرتے ہیں اور انہیں دوسروں سے مانگنے کی عادت ہو جاتی ہے۔دوسرے وہ جو لوگوں سے