تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 500
مانگتے نہیں بلکہ کام کر کے روزی کماتے ہیں لیکن ان کی آمد اس قدر کم ہوتی ہے کہ وہ بھی قابل امداد ہوتے ہیں۔بہرحال احادیث میں سوال کرنے سے سخت روکا گیاہے اور سوائے تین آدمیوں کے اور کسی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں سمجھا گیا۔چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اِنَّ الْمَسْئَلَۃَ لَاتَصْلِحُ اِلَّا لِثَـلَاثَۃٍ لِذِیْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ اَوْ لِذِیْ غَرْمٍ مُفْظِعٍ اَوْ لِذِیْ دَمٍ مُوْجِعٍ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب الزکٰوۃ من لا تحلّ لہ مسئلۃ) یعنی تین آدمیوں کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں۔اول اس کے لئے جس کو کھانے کے لئے کوئی چیز نہ ملتی ہو۔یعنی ایسی حالت ہو گئی ہو کہ اور کسی ذریعہ سے اس کو کھانا ملنا ناممکن ہو۔دوم جس پر بِلا اس کے کسی قصور کے چٹّی پڑ گئی ہو اور اسے وہ ادا نہ کر سکتا ہو۔سوم۔کوئی قتل ہو گیا ہو اور اس کی دیت ادا کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو۔ایسے موقعہ پر اس کے لئے سوال کرنا جائز ہے۔مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے معنے یہ ہوں کہ ان لوگوں کے لئے دوسروں کو سوال کرنا جائز ہے نہ کہ خود اس کو۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ دو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوالی بن کر آئے۔آپؐ نے ان کو سرتا پا دیکھا اور فرمایا۔اِنْ شِئْتَـمَا اَعْطَیْتُکَمَا مِنْھَا وَلَاحَظَّ فِیْھَا لِغَنِیٍّ وَلَالِقَوِیٍّ مُکْتَسِبٍ (مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۳۶۲) یعنی اگر تم چاہو تو میں تم کو مال دے دیتا ہوں۔مگر صدقہ کے مال میں صدقہ دینے والے آسودہ حال اور کمانے والے کا کوئی حق نہیں۔اسی طرح آپ نے ایک اور موقعہ پر فرمایا کہ مَنْ سَأَلَ وَ عِنْدَہٗ مَا یُغْنِیْہِ فَاِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ نَارِجَھَنَّمَ یعنی جو شخص دوسروں سے سوال کرے اور اس کے پاس اتنی چیز موجود ہو جو اس کے کام آسکے تو وہ جہنم کی آگ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ وَ مَا یُغْنِیْہِ کفایت کرنے والی چیز سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا مَایُغْدِیْہِ اَوْ یُعْشِیْہِ ایسی چیز جو اس کے صبح یا شام کے کھانے میں کام آسکے۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحہ ۱۸۱)غرض لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا میں بتایا کہ وہ لوگ دوسروں سے سوال ہی نہیں کرتے۔کیونکہ خود سوال کرنا ہی اپنی ذات میں اِلحاف ہے۔اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ جو لوگ اپنے مال رات اور دن پوشیدہ (بھی) اور ظاہر (بھی )(اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے رہتےہیں عَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر (محفوظ )ہے۔اور نہ (تو )انہیں کوئی خوف ہوگا