تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 488

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اور جو کچھ بھی تم (خدا کے لئے) خرچ کرو۔یا جو کچھ بھی تم نذر مانو اللہ اسے یقیناً جانتا ہے اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۰۰۲۷۱ (وہ اس کا نیک بدلہ دے گا) اور ظالموں کا کوئی بھی مدد گار نہیںہوگا۔حلّ لُغات۔نَذَرْتُمْ نَذَرَ کے معنے ہیں۔(۱) اَوْجَبَ عَلٰی نَفْسِہٖ مَالَیْسَ بِوَاجِبٍ۔اس نے اپنے نفس پر کوئی ایسی چیز واجب کر لی جو اس پر واجب نہ تھی۔(۲) اَوْجَبَ عَلٰی نَفْسِہٖ تَبَرُّعًا مِنْ عِبَادَۃٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْغَیْرَ ذٰلِکَ اس نے کوئی عبادت یا صدقہ وغیرہ اپنے اوپر فرض کر لیا۔وَقِیْلَ النَّذْرُ مَا کَانَ وَعْدًا عَلٰی شَرْطٍ۔اور کہا گیا ہے کہ نذر شرطی وعدہ کوبھی کہتے ہیں۔مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے تو میں ایسا کروںگا۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ جو خرچ بھی تم خرچ کرو اور جو نذر بھی تم نذر دو مگر یہ ترجمہ اردو محاورہ کے لحاظ سے درست نہیں۔اردو میں اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ ’’جو کچھ بھی تم خدا کے لئے خرچ کر ویا جو کچھ بھی تم نذر دو‘‘۔کیونکہ اردو میں جو مضمون ’’کرو‘‘ یا ’’دو‘‘ کے لفظ سے ادا کیا جاتا ہے عربی زبان میں اس کے اسم سے فعل بنا کر لے آتے ہیں اور اس سے وہ مضمون ادا کرتے ہیں۔ہاں عربی کی ترکیب سے یہ زائد معنے ضرور پیدا ہو جاتے ہیں کہ جس چیز کو خرچ کیا جائے وہ خرچ کرنے کے قابل ہو۔اور جو نذر دووہ نذر میں پیش کرنے کے قابل ہو۔نذر کے متعلق حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا(مسلم کتاب النذر باب النھی عن النذر)۔ہاں اگر کوئی نذر مانی جائے تو پھر اس کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔نذر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس لئے ناپسند فرمایا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ سے ایک قسم کا ٹھیکہ ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ٹھیکہ کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں۔انسان کو چاہئے کہ وہ اس کی بجائے صدقہ و خیرات اور دعائوں سے کام لے۔ہاں !اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ کوئی نذر بھی شکرانہ کے طور پر مان لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔میں یہ استنباط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ایک عمل سے کرتا ہوں۔آپ بعض دفعہ ان لوگوں کو جو آپ سے دعا کے لئے عرض کرتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ میں دعا کروںگا۔آپ اپنے دل میں خدمتِ دین