تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 489

کے لئے کوئی رقم مقرر کر لیں جسے اس کام کے پورا ہونے پر آپ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکرانہ کے طور پر اگر کوئی نذر مان لی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔بشرطیکہ اس نذر کے ساتھ ساتھ دعائوں اور گریہ و زاری اور صدقات و خیرات سے بھی کام لیا جائے۔فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ میں بتایا کہ تم جو کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہو یا تم کوئی منت مانتے ہو اور اپنے اوپر واجب کر لیتے ہو اور پھر اس نذر کو پورا بھی کر دیتے ہو تو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم نے کیا کچھ دیا اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم میں کتنا اخلاص اور کتنا جذبۂ ایمان کام کر رہا تھا۔پس وہ تمہارے اخلاص کے مطابق تمہیں اجر دے گا۔اور تمہارا انفاق رائیگاں نہیں جائے گا۔بلکہ وہ تمہیں بہت بڑی برکات سے حصہ دینے والا ثابت ہو گا۔فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ میں یہ اشارہ مخفی ہے کہ محض روپیہ خرچ کر دینا یا نذر کوپورا کر دینا کافی نہیں بلکہ دل کی نیت کا درست ہونا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کسی نے نام و نمود کے لئے خرچ کیا ہے یا محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ اس کے اندر کام کر رہا ہے۔وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی کہ کسی کے زیادہ دوست ہوتے ہیں اور کسی کے کم مگر ظالم ایسا ہوتا ہے کہ جب اسے دنیوی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو جو لوگ اسے مدد دے سکتے ہیں وہ بھی نہیں دیتے اور اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔اور اگر روحانی نقطۂ نگاہ لو تو اصل مددگار خدا تعالیٰ اور اس کے ملائکہ ہیں یا صلحاء اور اولیاء ہیں۔مگر ظالم کو ان میں سے کسی کی مدد میسر نہیں آتی اور وہ بے یارومددگار رہ کر اپنے جرم کی سزا پاتا ہے۔اس جگہ ظالم سے وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور بخل کا شکار رہتے ہیں یا ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے مال خرچ کیا تو وہ مفلس اور کنگال ہو جائیں گے اور اس طرح اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔فرماتا ہے۔یہ نقطۂ نگاہ دنیوی لحاظ سے بھی غلط ہے اور روحانی لحاظ سے بھی۔دنیا میں جو دوسروں کے لئے روپیہ خرچ کرتا ہے۔اور رفاہ عامہ کے کاموں میں حصہ لیتا ہے۔ضرورت پڑنے پر اور لوگ بھی اس کی مدد کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔یا کم سے کم اس سے ہمدردی رکھتے اور اس کی اخلاقی مدد کرتے ہیں۔مگر غرباء کی مدد سے ہاتھ کھینچنے والے اور دوسروں کی تکالیف میں ہمدردی اور غمخواری نہ کرنے والے خوشحالی میں تو مست رہتے ہیں مگر جب اُن پر مصائب اور آفات آتی ہیں تو لوگ ان سے کسی قسم کی ہمدردی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے حالانکہ ہر انسان خواہ کتنا بڑا ہو مصیبت میں دوسروں کی ہمدردی اور محبت اور اعانت کا محتاج ہوتا ہے۔اور اگر روحانی نقطہ ٔ نگاہ لو تو یہ تو واضح ہی ہے کہ جس شخص نے خدا کے لئے روپیہ خرچ نہ کیا یا قوم کے غرباء کی پرورش اور ان کی بہبودی کا خیال نہ رکھا اسے