تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 487
يُّؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ وہ جسے چاہتاہے حکمت عطاکر تاہے۔اور جسے حکمت عطا کی گئی ہو تو (سمجھو )کہ اسے ایک بہت ہی نفع رساں اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا١ؕ وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ۰۰۲۷۰ چیز مل گئی۔اور (یاد رہے کہ) عقلمندوں کے سوا نصیحت بھی کوئی حاصل نہیں کیا کرتا۔حل لغات۔اَلْبَابُ اَللُّبُّ کے معنے ہیں خَالِصُ کُلِّ شَیْءٍ ہر چیز کا خالص حصہ(۲) اَلْعَقْلُ۔عقل (۳) اَلْخَالِصُ مِنَ الشَّوَائِبِ اَوْمَازَکٰی مِنَ الْعَقْلِ فَکُلُّ لُبٍّ عَقْلٌ وَلَاعَکْسَ۔یعنی لُبّ اس عقل کو کہتے ہیں جو خالص ہو اور ہر عقل خالص نہیں ہوتی او رنہ نقصوں سے پاک ہوتی ہے پس عقل عام ہے اورلُبّ خاص۔ہرلُبّ عقل ہے مگر ہر عقللُبّ نہیں کہلا سکتی۔(۴) لُبّ مغز کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔یہ قومی ترقیات کے گُر ہیں جو ہمارا رسول تم پر ظاہرکر رہاہے۔کیونکہ یہ دعائے ابراہیمی کا مصداق ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ اے خدا! تو ان میں ایک ایسا رسول بھیج جو یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ کا مصداق ہو۔یعنی لوگوں کو کتاب اور حکمت سکھائے اور قومی ترقی کے راز ان پر ظاہرکرے۔پس یاد رکھو! کہ حکمت کا سکھایا جانا کوئی معمولی بات نہیں۔جسے حکمت کی کوئی ایک بات بھی ملے۔اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کثیر حاصل ہوئی ہے یعنی عمل نیک بھی اچھی شے ہے۔مگر نیکیوں میں ترقی کرنے کے گُر اور کاموں کی حکمتیں معلوم ہو جائیں تو یہ ایک بڑی خیر ہے۔بلکہ یوں سمجھو کہ گویا ہیروں اورجواہرات کی ایک کان مل گئی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمام اچھی تعلیمات قرآن کریم میں موجود ہیں۔لیکن اگر اس کے احکام کی حکمت سمجھ میں آجائے تو انسان کا جوشِ عمل بڑھ جاتا ہے۔اور ناواقفیت کی صورت میں سستی ترقی کرتی ہے۔پس احکام کی حکمتوں کا علم بڑی مفید چیز ہے مگر فرماتا ہے کہ لوگ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے صرف وہی لوگ جن کی نظرذاتی فوائد پر نہیں ہوتی بلکہ ساری قوم کے فوائد پر ہوتی ہے وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔