تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 45

یہ تین باتیں روحانی مدارج کے حصول کے لئے ممد ہیں تم ان باتوں کو مدِّنظر رکھو۔اگر تم ایسا کرو گے تو جو کام تمہارے سامنے ہیں اُن کے پورا کرنے میں تمہیں کامیابی ہوگی اور تمہارا مقصد تمہیں حاصل ہو جائے گا۔اسی طرح صلوٰۃ کے معنوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ (۱) اے مومنو! تم نماز کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کرو۔(۲) اے مومنو! تم دعائوں کے ذریعہ اس کی مدد حاصل کرو۔(۳) اے مومنو! دین پر استقلال کے ساتھ قائم ہو جانے کے ذریعے سے اس کی مدد حاصل کرو۔(۴) اے مومنو!تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر رحم اور شفقت کر کے اس کی مدد حاصل کرو۔(۵) اے مومنو! تم خدا تعالیٰ کے حضور استغفار اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کر کے اس کی مدد حاصل کرو۔(۶) اے مومنو! تم خدا تعالیٰ کے رسول پر درود بھیج کر اُس کی مدد حاصل کرو۔گویا یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد کے حصول کے ذرائع ہیں۔سورۃ فاتحہ میں یہ بتایا گیا تھا کہ تم اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہا کرو۔یعنی اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔اور تجھ سےہی مدد چاہتے ہیں۔اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ُگربتایا ہے کہ مدد کس طریق سے حاصل کی جاسکتی ہے۔فرماتا ہے وہ ذرائع یہ ہیں کہ ایک تو دین کے راستہ میں جو مشکلات اور مصائب پیش آئیں اور جو قربانیاں تمہیں کرنی پڑیں اُن سے گھبرایا نہ کرو۔دوسرے ان امور سے جن سے اللہ تعالیٰ تم کو روکتا ہے رُکے رہو۔تیسرے وہ قربانیاں جو قرب الٰہی کے حصول کے لئے ضروری ہیں ان کو ترک نہ کرو۔اور ان پر استقلال اور دوام اختیار کرو۔چوتھے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قربانیوں کے بہترین نتائج پیدا کرے اور اُن کو قبول فرماتے ہوئے تمہیں غلبہ بخشے۔پانچویں غرباء سے ہمدردی اور شفقت کا سلوک کرو تا مخلوق خدا کو آرام پہنچانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ بھی تم سے خوش ہو۔چھٹے خدا تعالیٰ سے اپنے قصوروں کی معافی طلب کرتے رہو۔ساتویں انبیاء پر درود بھیجا کرو۔کیونکہ اُن کے ذریعے سے ہی تم کو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی توفیق ملی ہے۔آٹھویں خدا تعالیٰ کے دین پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے کی کوشش کیا کرو۔نویںعبادت پر مضبوطی سے قائم رہو۔یہ سب امور خدا تعالیٰ نے کامیابی کے حصول کے بیان فرمائے ہیں۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ اُسے خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت حاصل ہو اس کے لئے اِن نو باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔بندے کا صرف اپنے مونہہ سے خدا تعالیٰ کو یہ کہنا کہ الٰہی میری مدد کر کوئی معنے نہیں رکھتا۔مدد حاصل کرنے کے لئے پہلے ان ذرائع پر عمل کرنا ضروری ہے۔جو شخص گھبرا کر مایوس ہو جاتا ہے اور پھر یہ امید رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کی مدد کے لئے آسمان سے نازل ہوںگے وہ اُس کی مدد حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔جو شخص خدا تعالیٰ کے احکام کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور ساتھ ہی یہ اُمید رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے نازل ہوں گے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔