تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 44
کسی تکلیف کو محسوس ہی نہ کرو۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نواسہ فوت ہو نے لگا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ایک صحابی ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیاآپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرا دل سخت نہیں بنایا (بخاری کتاب المرضٰی باب عیادة الصبیان)۔غرض درد کا احساس منع نہیں۔ہاں ہمت ہار کر کام چھوڑ دینا اورجزع فزع کرنا منع ہے۔اِسی لئے فرمایا کہ تکالیف تو ہوںگی اورتلوار تو چلے گی اور تمہاری گردنیں بھی کٹیں گی لیکن ان پر صبر سے کام لینا اور استقلال سے اپنے کام میںلگے رہنا۔ہم تمہیں یہ نہیں کہتے کہ تمہیں غم کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔یہ ایک طبعی جذبہ ہے جو روکا نہیں جا سکتا۔ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ان قربانیوں میں استقلال سے حصہ لو اور اپنے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہ آنے دو۔مگر پھر فرمایا کہ یہ تو دنیوی تدابیر ہیں۔تمہارا اصل کام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔اور دعاؤں سے اُس کی مدد چاہو۔جب تک تم خدا تعالیٰ پر کامل توکل نہیں کرو گے اور اُس سے دعائیں کرنا اپنا معمول نہیں بناؤ گے اُس وقت تک تمہیں فتح حاصل نہیں ہو گی۔دیکھو ایک نادان اور کم عقل بچہ بھی جب اُسے کوئی ڈراتا ہے تو فوراً اپنی ماں کے پاس بھاگ جاتا ہے اور ماں خواہ کتنی ہی کمزور ہو وہ اس کے پاس جا کر اپنے آپ کو محفوظ خیال کرتا ہے۔اِسی طرح ایک مومن پر بھی جب کوئی دشمن حملہ کرتا ہے تو اس کی پناہ صرف خدا تعالیٰ کا ہی وجود ہوتا ہے۔اسی لئے صلوٰۃکا تعلق روحانی ہونے کے لحاظ سے خدا تعالیٰ سے ہے۔اور صبر کا تعلق جسمانی ہونے کے لحاظ سے انسانی تدابیر سے ہے۔صبر میں جبری طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اورصلوٰۃ میں عشقیہ طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔مشکلات اور مصائب ہم خود پیدا نہیں کرتے بلکہ دشمن مشکلات اور مصائب لاتا ہے۔اور ہم انہیں برداشت کرتے ہیںاور خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑتے لیکن نماز اور دعا طوعی عبادت ہے۔نماز ہمیں کوئی جبری نہیں پڑھاتا بلکہ ہم خود پڑھتے ہیں۔پس صبر میں ہم جبری طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کا ثبوت دیتے ہیں اورصلوٰۃمیں طوعی طور پر اس کا اظہار کرتے ہیں اور جب یہ دونوں چیزیں مل جاتی ہیںتو محبت کامل ہو جاتی ہے۔اور خدا تعالیٰ کا فیضان جاری ہو جاتا ہے۔صبر کے جو معنے اوپر بیان کئے گئے ہیں۔اُن کے لحاظ سے اس ا ٓیت کا مطلب یہ ہے کہ (۱)اے مومنو! جب تم پر خدا تعالیٰ کی راہ میں مصائب اور مشکلات آئیں تو تم گھبرایا نہ کرو اور نہ اُن پر شکوہ کا اظہار کیا کرو۔(۲)اے مومنو! جو باتیں خدا تعالیٰ کے قرب میں روک ہیں تم اُن سے بچنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہا کرو۔(۳) اے مومنو! جب تم کو وہ احکام دئیے جائیں جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔تو تم ان پر عمل کرنے میں سستی نہ دکھایا کرو بلکہ استقلال سے اُن پر عمل کیا کرو۔