تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 485

اشارہ کیا کہ یہ مغفرت اس کی طرف سے ہو گی اور پھر یہی نہیں کہ وہ مغفرت کا وعدہ کرتا ہے بلکہ وہ فضل کا بھی وعدہ کرتا ہے۔یعنی اس بات کا بھی کہ وہ تمہیں مزید ترقی دے گا اور تمہارے لئے اپنی برکتوں کے دروازے کھول دے گا۔اگر پہلی آیت میں یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ کے معنے افلاس اور محتاجی سے ڈرانے کے لئے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ شیطان تو فقر کو بڑا سمجھتا ہے اور خدا تعالیٰ گناہ کو۔اس لئے وہاں فقر کو پہلے رکھا اور یہاں مغفرت کو۔اس طرح رحمانی اور شیطانی سلسلوں میں جو اشیاء کی عظمت کا فرق ہے اس کو ظاہر کر دیا۔حضرت خلیفۂ اول رضی اللہ عنہ اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ کی مثال میں اودھ کی ریاست کی مثال سنایا کرتے تھے کہ جب انگریزوں کا اس سے بگاڑ شروع ہوا تو انہوں نے ریاست کے ان تمام لوگوں کو جن کا روپیہ کلکتہ کے بنکوں میں جمع تھا نوٹس دے دیا کہ اگر تم ہمارے مقابلہ میں اُٹھے تو تمہارا تمام روپیہ ضبط کر لیا جائے گا۔اس پر وہ اپنے فقر کے خیال سے چپ کر کے بیٹھ گئے اور انگریز نواب کو گرفتار کر کے لے گئے۔لیکن یورپین اقوام چونکہ قربانی کی عادی ہیں اس لئے وہ اس قسم کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتیں۔چنانچہ پہلی جنگ عظیم میں کروڑوں روپیہ جرمنی کا انگریزوں کے ہاں تھا اور انگریزوں کا کروڑوں روپیہ جرمنی میں تھا۔لیکن اس کی کوئی پرواہ نہ کی گئی اور پورے زور سے لڑائی شروع کر دی گئی۔تو زندہ رہنے والی قومیں جانتی ہیں کہ روپیہ خرچ کرنے کے لئے ہی ہوتا ہے اس لئے وہ خرچ کرنے سے گریز نہیں کرتیں لیکن جو قومیں روپیہ جمع رکھتی ہیں اور غرباء پر خرچ نہیں کرتیں وہ نقصان اُٹھاتی ہیں۔یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان تمہیں فقرسے ڈراتا ہے حالانکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم تباہ ہو جائو گے۔اور جب تم اپنے غریب بھائیوں سے برا سلوک کروگے تو دشمن تک کہیں گے کہ یہ لوگ بڑے پست فطرت ہیں۔انہوں نے غریبوں کا خیال تک نہ رکھا۔لیکن اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ تم سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ جب تم صدقہ کروگے تو اس کے نتیجہ میں تمہیں مغفرت حاصل ہو گی۔یعنی جب تم غرباء کو اُبھاروگے تو تمہارے اپنے عیب بھی چھپ جائیں گے کیونکہ وہ شخص جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہو ا س میں اگر کوئی عیب بھی ہو تو لوگ اسے چھپا لیتے ہیں اور اگر یہ مطلب لیا جائے کہ وہ جن باتوں کا وعدہ کرتا ہے وہ آخر فقر پیدا کرتی ہیں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان کا پہلا نتیجہ تو یہ ہو گا کہ جب تم لوگوں کے عیوب ڈھانکو گے تو وہ تمہارے عیوب ڈھانکے گا۔گویا اس ذریعہ سے تم خدا کے حضور میں بھی اور بندوں کی نگاہ میں بھی نیکی حاصل کروگے اور دوسرا نتیجہ یہ ہو گا کہ یہاں بھی تمہارے مال میں زیادتی ہو گی۔کیونکہ قومی اخراجات میں حصہ لینے یا غرباء قوم کو بڑھانے اور ترقی دینے سے قومی طاقت ترقی کرے گی اور آخر تم کو مالی فائدہ بھی پہنچے گا اور اس خرچ کو بڑھا کر اللہ تعالیٰ تمہیں