تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 486
اگلے جہان میں جو کچھ دے گا اس کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ میں بتایا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے احکام کی اتباع کروگے تو اس کے پاس سب کچھ ہے۔وہ تمہیں بہت کچھ دے گا بلکہ تم اس کے وعدۂ فضل و مغفرت کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے اور نہ وعدۂ فضل کے معنوں کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہو او رپھر وہ عَلِیْمٌ ہے۔تمہارے ہر ایک کام سے واقف ہے۔اس سے کچھ پوشیدہ نہیں۔وہ تمہاری ان طریقوںسے مدد کرے گا جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے۔اِن آیات پر غور کرو اور دیکھو کہ ان میں الفاظ کی ترتیب کیسی اعلیٰ درجہ کی رکھی گئی ہے۔پہلے حصہ میں فقر کو پہلے رکھا ہے اور فحشاء کو بعد میں اور دوسرے حصہ میں پہلے مغفرت کو رکھا ہے اور بعد میں فضل کو۔حالانکہ ظاہر کے لحاظ سے فضل کو مغفرت سے پہلے رکھنا چاہیے تھا کیونکہ یہ فقر کے مقابلہ میں ہے۔اور مغفرت کو بعد میں رکھنا چاہئے تھا۔کیونکہ یہ فحشاءؔ کے مقابلہ میں ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ ایک تو ظاہری ترتیب ہوتی ہے اور ایک روحانی ترتیب ہوتی ہے۔یہ ظاہری ترتیب ہے۔یعنی شیطان پہلے فقرؔ سے ڈراتا ہے اور پھر فحشاءؔ کا حکم دیتا ہے جس کے نتیجہ میں پہلے کسی قوم کو ذلّت پہنچتی ہے اور پھر ساری دنیا میں اس کی بدنامی ہوتی ہے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے پہلے مغفرت کا سلوک ہوتا ہے اور پھر فضل کا۔جب اپنی قوم کے غرباء سے اچھا سلوک کیا جائے گا تو اس کے نتیجہ میں لازماً مغفرتؔ ہوگی اور پھر اس کے بعد فضل کا نزول ہو گا۔یہ تو اس ترتیب کی ظاہری وجہ ہے۔روحانی وجہ یہ ہے کہ شیطان کے نزدیک عزت و آبروکی نسبت مال زیادہ اہمیت رکھتا ہے اس لئے اس کے ذکر میں مال کو مقدم رکھا اور عزت کو بعد میں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک مال کی نسبت عزت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اس لئے اس نے مغفرت کو پہلے رکھا اور فضل کو بعد میں یعنی پہلے نیک نامی کو مدّنظر رکھا اور بعد میں مال کو۔دوسرے اس میں بتایا ہے کہ سچے اور جھوٹے مذہب میں یہ فرق ہے کہ جھوٹے مذہب میں دنیا مقدم رکھی جاتی ہے اور سچے مذہب میں دین کو۔جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ کوئی شخص ردّی چیز اس لئے دیتا ہے کہ اچھی چیز دینے سے فقر پیدا ہو جائے گا اور کوئی عمدہ اور اعلیٰ چیز اس لئے دیتا ہے کہ اس کا ایمان ترقی کرے گا۔