تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 484
فَحْشَآءَ کے معنے ہیں ہر وہ بدی جو نمایاں ہو جائے۔اسی طرح فحشاء بخل کو بھی کہتے ہیںـ۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے۔خواہ یہ ڈرانا مالی قربانی کے متعلق ہو یا جانی قربانی کے متعلق۔یا اور سینکڑوں قسم کی قربانیوں کے متعلق۔وہ کہتا ہے کہ اگر تم مال دو گے تو تمہاری ضروریات کے لئے کچھ نہیں رہے گا۔تم تنگ دست ہو جائو گے اور لوگوں سے مانگتے پھروگے۔یا جان پیش کرو گے تو تباہ ہو جائو گے مگر اس کے ساتھ ہی اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر بے حیائی کے کام ہوں تو شیطان انسان کو بلا دریغ اپنا سارا روپیہ لٹا دینے کی ترغیب دیتا ہے۔گویا نیکی کی راہ میں تو وہ ایک ناصح مشفق بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اور بدی کی راہ میں دلیری سے قدم آگے بڑھانے کی تلقین کرتا ہے۔غرض قربانی کرنے کو تو ایک مومن بھی کرتا ہے اور کافر بھی۔مگر مومن کی قربانی خدا کے لئے ہوتی ہے اور کافر کی قربانی ایسے کاموں کے لئے ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والے ہوتے ہیں۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ شیطان انسان کے ساتھ وعدہ تو راحت و آرام اور دولت و آسائش کا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے رستہ میں اپنا مال خرچ نہ کرو گے تو تم بڑے مال دار ہو جائو گے۔بڑی بڑی کو ٹھیاں بنا لو گے اور ہر قسم کے سامان جمع کر لو گے۔مگر اس کا نتیجہ فقر ہوتا ہے کیونکہ جو قوم غرباء کی طرف توجہ نہیں کرتی اور صرف اپنے عیش و آرام کا خیال رکھتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔جیسا کہ مردہ قوموں کی حالت سے ظاہر ہے۔اسی لئے فرمایا کہ شیطان تم سے ایسی باتوں کا وعدہ کرتا ہے جو بظاہر تو بھلی معلوم ہوتی ہیں مگر ان کا انجام فقر یعنی تباہی اور بربادی اور رسوائی ہوتا ہے۔وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ اور جن کاموں کا حکم دیتا ہے ان کا عیب کھلا اور ظاہر ہوتا ہے۔فحش ہر ایسی بدی کو کہتے ہیں جس کی بُرائی ظاہر ہو…اسی طرح فحش بخل کو بھی کہتے ہیں۔اس لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ تمہیں بخل کا حکم دیتا ہے حالانکہ بخل ایک ناپسندیدہ امر ہے اور عرب لوگ تو خصوصیت سے بخل کو سخت بُرا سمجھتے تھے یا یہ کہ وہ ہمیشہ بدی کا ہی حکم دیتا ہے۔گویا عملاً بھی وہ بُری بات ہوتی ہے اور عزت کے لحاظ سے بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔اور یہی دو باتیں انسان کو کسی کام سے روکتی ہیں۔انسان یا عزت کو دیکھتا ہے یا فائدہ کو دیکھتا ہے۔وَ اللّٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا۔اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔یعنی تمہاری کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنے اور عیوب کو مٹا دینے کا اور پھر پہلے سے بھی زیادہ دینے کا۔یہاں اگر مغفرت کو عام رکھا جاتا تو یہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ اس سے مراد بندوں کا ایک دوسرے کی کمزوری کو نظرانداز کرنا ہے مگرمَغْفِرَةً مِّنْهُ فرما کر اس طرف