تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 483

ہیں کہ تلاش کر کے ناپسندیدہ اور ناکارہ چیزیں مت دو۔یعنی یہ دیکھ کر کہ فلاں چیز تو میرے کسی کام کی نہیں اس لئے دے دوں درست نہیں۔وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّا اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ۔فرمایا ایسی چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں مت دو کہ اگر خود تمہیں وہی چیز ملے تو تم شرم کے مارے تو لےلو مگر یوں نہیں لے سکتے۔وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ۔فرماتا ہے۔یہ صدقات تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی احتیاج نہیں۔اگر تم اس کے راستہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہو یا اس کے بندوں کو دیتے ہو تو درحقیقت خدا تعالیٰ کو ہی دیتے ہو۔اس لئے تم اس کے بندوں کو صدقہ دیتے وقت خدا تعالیٰ کی عظمت کو ملحوظ رکھو۔جب تم دنیوی لوگوں سے معاملہ کرتے وقت ان کی شان کو ملحوظ رکھتے ہو حالانکہ وہ بہت ہی معمولی درجہ کے ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے جب تم صدقہ دیتے ہو تو اس کی شان کو کیوں ملحوظ نہیں رکھتے؟ وہ تو غنی بھی ہے اور حمید بھی۔اسے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں۔بلکہ تمہیں اس کی مدد کی ضرورت ہے اور پھر وہ ہر قسم کی حمد کا مستحق ہے۔اس لئے تم اس کے بندوں سے اچھا سلوک کرو تا وہ بھی تم سے اچھا سلوک کرے۔اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ يَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔اور تمہیں بے حیائی کی تلقین کرتاہے۔اور اللہ اپنی طرف سے ایک يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌۖۙ۰۰۲۶۹ بڑی بخشش اور بڑے فضل کا تم سے وعدہ کر تا ہے۔اور اللہ بہت وسعت دینے والا (اور )بہت جاننے والا ہے۔حلّ لُغات۔یَعِدُکُمْ وَعَدَہٗ کے معنے اچھا وعدہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور بُرا وعدہ کے بھی۔اسی طرح اَوْعَدَ کے معنے بھی دونوں ہوتے ہیں۔خیر کے بھی اور شر کے بھی۔لیکن اَوْعَدَ کا کثیر استعمال شر کے متعلق ہے جب تک کہ کوئی قرینہ صارفہ نہ ہو۔اسی طرح وعدہ کا کثیر استعمال خیر کے لئے ہے جبتک کہ کوئی قرینہ صارفہ نہ ہو۔اور قرینہ یہ ہوتا ہے کہ ساتھ مفعول بھی بیان کر دیتے ہیں اس سے خیر یا شر کا پتہ لگ جاتا ہے (اقرب) مثلاً کہیں کہ فلاں شخص کے ساتھ دس کوڑوں کا میں وعدہ کرتا ہوں۔تو اس صورت میں اس کے معنے شرکے ہوں گے۔یہاں چونکہ فقر کا ذکر آتا ہے اس لئےاس کے معنے شر ہی کے ہیں۔اور وَعَدَ کے معنے ڈرانے کے ہیں۔