تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 482
حصہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا کرو۔گویا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ فرما کر مومنوں کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ ان کا مال ہمیشہ طیب اور پاک ہی ہوتا ہے۔ناپاک مال کی اس میں ذرا بھی آمیزش نہیں ہوتی۔دوسرے یہاں طیب حرام کے مقابلہ میں نہیں بلکہ خبیث کے مقابلہ میں آیا ہے۔اور مطلب یہ ہے کہ اَنْفِقُوْا میں صدقہ دینے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ تب پورا ہو گا جب تم اپنے اچھے اور مرغوب مال میں سے خرچ کرو گے۔یوں مستعمل اشیاء بھی غرباء کو دی جا سکتی ہیں اور ان کا دینا ہرگز منع نہیں۔مثلاً انسان اگر کسی کو پرانا کپڑا دے دے جس سے دوسرا شخص فائدہ اٹھالے تو یہ ناجائز نہیں بلکہ یہ فعل اسے ثواب کا مستحق بنائے گا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ میں صدقہ دینے کا جو حکم دیا ہے وہ اس سے عہدہ بر آنہیں ہو گا۔وہ اس حکم سے اسی وقت عہدہ برآ ہو گا۔جب وہ اس چیز میں سے دے جو اس کے کام کی ہے۔یعنی اعلیٰ درجہ کا اور اچھا مال دے تاکہ اس کی قربانی زیادہ بلند شان رکھنے والی ہو۔پھر فرمایا وَ مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ تم اس میں سے بھی خرچ کرو جوہم نے تمہارے لئے زمین میں سے نکالا ہے۔درحقیقت دنیا میں دو ہی طرح مال حاصل ہوتا ہے۔ایک تو تجارت اور ملازمت وغیرہ کے ذریعہ۔دوسرے ان ذخیروں کے ذریعہ جو خدا تعالیٰ نے زمین کے اندر رکھے ہیں۔او رانسان کوشش کر کے ان کو نکالتا ہے۔جیسے کھیتوں دفینوں اور کانوں وغیرہ سے انسان کو آمدنی ہوتی ہے۔پس مِنَ الْاَرْضِ میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو زمین سے نکلتی ہیں۔صرف زراعت مراد نہیں۔اسی طرح نباتات وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔غرض دو قسمیں بتا کر ان دونوں کی طرف اشارہ کر دیا اور بتایا کہ خواہ تم ملازمت تجارت اور صنعت وحرفت وغیرہ کے ذریعہ روپیہ کمائو۔خواہ زمینی ذخائر اور معدنیات سے فائدہ اٹھائو۔تمہارا فرض ہے کہ تم اپنے تمام اموال کا ایک حصہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔وَ لَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ۔یہاں اللہ تعالیٰ نے مطلق اَلْـخَبِيْثَ کا لفظ رکھا ہے۔اور یہ چھوڑ دیا ہے کہ وہ کس کے لئے خبیث ہو۔اس وجہ سے اس کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔(۱) ایک معنے تو یہ ہیں کہ وہ چیز جو فی نفسہٖ بُری اور ناقابلِ استعمال ہو نہ یہ کہ اضافی طور پر۔یعنی جو چیز کسی فرد کے لئے بھی قابلِ استعمال نہ ہو وہ کسی کو نہ دو۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز دینے والے کے کام کی تو نہ ہو مگر لینے والے کے کام کی ہو۔(۲) ایسی چیز نہ دو کہ جسے تم دینے لگے ہو وہ اسے ناپسند کرتا ہو یا اسے مکروہ نظر آئے۔اس میں بتایا کہ جسے تم کوئی چیز دو اس کے احساسات کا بھی خیال رکھ لیاکرو تاکہ اس کا دل میلا نہ ہو یا ایسی چیز نہ ہو جو اس کے کام کی نہ ہو۔(۳) تیسرے معنے تیمم کے لفظ سے یہ پیدا ہوتے