تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 480

ہو گا! یہی حالت قیامت کے دن ان لوگوں کی ہو گی جنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ نہیں کئے۔اس وقت ان کے پاس کوئی مال نہیں ہو گا جسے وہ پیش کر سکیں اور نہ اولاد وغیرہ کام آئے گی اس لئے فرمایا کہ تم اپنا انجام سوچ لو! آج تم اپنے لئے سب کچھ کر سکتے ہو۔مگر آخرت میں کچھ نہیں کر سکو گے۔اگر آج تم اپنامال خرچ کرو گے تو یہ مال تمہارے لئے وہاں ذخیرہ کے طور پر جمع رہے گا اور تم اس سے فائدہ اٹھا سکو گے ورنہ تم ہلاک ہو جائو گے۔ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ کے الفاظ خاص طور ہوشیار کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں کہ جب تم اپنے بچوں کے لئے دنیا کی محدود زندگی میں بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ وہ ایسی بے بسی کی حالت میں رہ جائیں تو تمہاری اپنی جان جو کہ اگلے جہان میں ایک بچہ کی حالت سے بھی زیادہ نازک حالت میں ہو گی کیوں توجہ کی مستحق نہیں۔تم سوچواور غور کرو کہ ایمان کی نعمت یا رضائے الٰہی جیسی نعمت جو ایسے وقت میں کام آنی ہے۔جب بچہ جتنی طاقت بھی تمہارے اندر نہیں ہو گی اور خود تمہارے کام آنی ہے اس کو اس بے پروائی سے ضائع کر دینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ پس تم ابھی سے ہوشیار ہو جائو اور موت سے پہلے اپنے لئے نیکیوں کا ذخیرہ جمع کر لو۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ اے ایمان دارو! جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں اور (نیز )اس میں سے جو ہم نے مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے (اللہ کی راہ میں حسب توفیق )خرچ کرو۔اور ناکارہ چیز کو اور جس میں سے تم مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ١ؕ خرچ (تو)کر تے ہو مگر خود تم سوائےاس کے کہ اس (کے قبول کرنے )میں چشم پوشی سے کام لو اسے ہرگز قبول نہیں وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ۰۰۲۶۸ کرتے۔(صدقہ کے لئے )بالارادہ نہ چنا کرو۔اور جان لو کہ اللہ( تعالیٰ بالکل) بے نیاز (اور) بہت ہی حمد کا مستحق ہے۔حل لغات۔اَلْخَبیْثُ اَلنَّجَسُ۔اَلرَّدِّیُّ۔اَلْمَکْرُوْہُ (اقرب) یعنی خبیث ہر ناپاک۔ردّی اور