تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 481

ناپسندیدہ چیز کو کہتے ہیں۔تَیَمُّمٌ تَیَمَّمَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں تَعَمَّدَہٗ جان بوجھ کر اور نیت اور ارادہ کے ساتھ کسی چیز کو اختیار کیا۔پس لَاتَیَمَّمُوْا کے یہ معنے ہیں کہ تم قصداً اور ارادۃً ناکارہ چیز کو صدقہ کے لئے مت چنو۔(اقرب) تُغْمِضُوْا اَغْمَضَ عَیْنَیْہِ کے معنے ہیں۔اَطْبَقَ اَجْفَانَھُمَا۔اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔اور اَغْمَضَ عَنِ الشَّیْءِ کے معنے ہیں تَجَاوَزَہٗ کسی چیز سے تجاوز کیا۔اور اَغْمَضَ عَلٰی کَذَا کے معنے ہیں۔تَحَمَّلَہٗ وَرَضِیَ بِہٖ اسے برداشت کر لیا اور اس پر راضی ہو گیا۔(اقرب) جب یہ لفظ بغیر صِلہ کے آئے تو اس کے معنے بند کر لینے کے ہوتے ہیں۔اور جب عَنْ کے ساتھ آئے تو اغماض کے معنے ہوتے ہیں۔یہاں یہ تینوں معنے ہو سکتے ہیں۔(۱) یعنی تم اپنی آنکھیں بندکر کے لے لو (۲) یا تم اس میں تجاوز سے کام لو۔یعنی دوسرے کی اس حرکت کو تم نظر انداز کردو۔اور اسے لے لو۔(۳) یا یہ کہ تم دوسرے کی خاطر اسے برداشت کر لو۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ دو اس مال میں سے دو جو تمہارا کمایا ہوا ہے اور اچھا مال ہے۔یہ نہیں کہ دوسروں کے اموال پر ناجائز تصرف کر کے ان کو خرچ کرنے لگ جائو۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے دل میں غریبوں کی امداد کاجوش پیدا ہوتا ہے۔تو وہ ڈاکے ڈالنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر انہیں جو کچھ ملتا ہے اس کا ایک بڑا حصہ غریبوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔وہ لوگ جو فلسفہ اخلاق سے واقف نہیں ہوتے بالعموم ایسے ڈاکوئوں کی بڑی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں ڈاکو بڑا اچھا ہےکیونکہ وہ غریبوں کی خوب مدد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ غریبوں کی مدد کرنے کا کوئی طریق نہیں کہ ڈاکہ ڈالا اور دوسرں کا مال چھین کر غریبوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم اپنی جائز کمائی میں سے جتنا دے سکتے ہو دو اور باقی کام خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔لوگوں کا مال لوٹ کر غرباء کی امداد کرنا تو حلوائی کی دوکان پر دادا جی کے فاتحہ کا مصداق بننا ہے۔اگر تمہارے نزدیک غرباء زیادہ ہیں تو اس کی ذمہ داری تم پر نہیں۔تم جتنا دے سکتے ہو دو اور باقی کام خدا تعالیٰ کے سپرد کردو۔اس جگہ مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ سے یہ مراد نہیں کہ مومنوں کی کمائی میں کچھ پاک مال ہوتا ہے اور کچھ ناپاک اور انہیں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صرف پاک مال خرچ کیا کریں۔ناپاک مال خرچ نہ کیا کریں۔بلکہ یہ الفاظ مَاکَسَبْتُمْ کی صفت ِ حسنہ کے اظہار کے لئے استعمال کئے گئے ہیں اور مراد یہ ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے وہ طیب ہی ہے لیکن ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اس طیّب مال کا بھی (جس میں ہر قسم کا مال اور علم بھی شامل ہو سکتا ہے) ایک