تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 479

تَتَفَكَّرُوْنَؒ۰۰۲۶۷ طرح اپنے احکام بیان کر تا ہے تاکہ تم فکر (سے کام لیا )کرو۔حلّ لُغات۔نَخِیْلٌ نَخْلٌ کی جمع ہے۔اس کے معنے کھجوریں یا کھجوروں کے باغ کے ہیں۔(اقرب) اَعْنَابٌ عِنَبٌ کی جمع ہے اور اس کے معنے انگور ہیں۔(اقرب) اَلْکِبَرُ کَبُرَ الرَّجُلُ اَوِالدَّآبَّۃُ کے معنے ہیں طَعَنَ فِی السِّنِّ۔آدمی یا جانور بڑا ہو گیا۔(اقرب) اِعْصَارٌ ایسی ہوا کو کہتے ہیں جو زمین سے مٹی اُڑاتی ہوئی ستون کی طرح آسمان کی طرف چلی جاتی ہے۔ہماری زبان میں ایسی ہوا کو بگولا کہتے ہیں۔یہ لفظ ہمیشہ سختی کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے۔عرب لوگ کہا کرتے ہیں۔اِنْ کُنْتَ رِیْحًا فَقَدْ لَاقَیْتَ اِعْصَارًا۔اگر تو تیز ہوا ہے تو جس سے تجھے پالا پڑا ہے وہ بگولا ہے۔گویا آج تیرا واسطہ سخت شخص سے پڑا ہے۔بگولہ میں سخت تیزی کی وجہ سے ایسی آگ پیدا ہو جاتی ہے جس سے جنگل کے جنگل جل جاتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اب اللہ تعالیٰ ایک اور تمثیل کے ذریعے انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت پرروشنی ڈالتا ہے۔دنیا میں اگر کسی کے پاس تھوڑا سامال ہو اور وہ ضائع ہو جائے تو اس کا بھی اسے افسوس ہوتا ہے۔لیکن اگر کسی کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے ساتھ نہریں بہتی ہوں اور اسے اس باغ میں سے ہر قسم کے پھل ملتے رہتے ہوں۔اور وہ خود بوڑھا ہو چکا ہو اور اسے زیادہ زندہ رہنے کی امید نہ ہو۔اس کے بچے چھوٹی عمر کے ہوں جن سے کمائی کی اُمید نہ ہو۔تو کیا اس کا دل چاہتا ہے کہ ایک بگولا زور سے آئے اور اس کے باغ کو جلادے۔بگولا اس لئے فرمایا کہ ایک تو وہ سخت تیز ہوتا ہے۔دوسرے اچانک آتا ہے اور اس میں بوجہ تیزی کے آگ پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ بہت جگہ جہاں جنگل زیادہ ہوتے ہیں یہ نظارہ دیکھنے میں آتا ہے۔اگر تھوڑا سا مال ہوتا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ خیر تھوڑا سامال تھا اگر ضائع ہو گیا تو کوئی بڑی بات نہیں یا اگر میرے کام آتا تو کب تک آتا؟ آخر اس نےختم ہی ہونا تھا۔پھر اگر بوڑھا نہ ہوتا تو خیال کر سکتا تھا کہ میری زندگی میں بچے بڑے ہو جائیں گے اور وہ اپنے لئے جائیداد پیدا کر لیں گے۔لیکن اگر مال بھی زیادہ ہو۔خود بھی بوڑھا ہو اور پھر اس کے بچے بھی چھوٹے ہوں تو وہ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کا مال تباہ ہو جائے اور کسی حادثہ سے اس کی تمام جائیداد جل کر فنا ہو جائے۔اور اگر کسی حادثہ سے اس کی تمام جائیداد جل کر تباہ ہو جائے تو تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ اسے کس قدر صدمہ