تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 477

دیتی ہے۔لیکن اگر زیادہ بارش نہ ہو تب بھی تھوڑی بارش سے ہی پھل پیدا ہو جاتا ہے اور وہی اس کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔اس تمثیل میں بتایا کہ سچے مومن کا دل ایک باغ کی طرح ہوتا ہے جس میں نیک اعمال کے ہرے بھرے پودے کھڑے ہوتے ہیں۔جب وہ صدقہ و خیرات کرتا ہے تو خواہ وہ صدقہ بارش کی طرح نہ ہو بلکہ معمولی شبنم کی طرح ہو تب بھی وہ اس نیکی کے بابرکت نتائج حاصل کر لیتا ہے۔چونکہ اس قسم کے صدقات دینے والوں میں اکثر غرباء ہوتے ہیں۔ان کو خیال ہو سکتا تھا کہ ہمارے صدقے وابل کہاں کہلا سکتے ہیں؟ اس لئے فرمایا کہ وابلؔ نہیں تو طلّؔ بھی اس کھیتی کو بڑھادے گی۔گویا امیر آدمی کے صدقہ کو وابلؔ اور غریب آدمی کے صدقہ کو لَایَجِدُوْنَ اِلَّا جُھْدَھُمْ (التوبة:۷۹) کے ماتحت طلّ قرار دیا ہے۔مگر چونکہ ان کے دل میں اخلاص اور تقویٰ ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ وہ جو کچھ خرچ کریں گے اس سے بھی ان کی کشتِ عمل خوب ہری بھری ہو جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جزا دل کے اخلاص پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ مال کی مقدار اور کمیت پر۔صحابہ کرامؓ میں دونوں قسم کے لوگ موجود تھے۔ایک غربت کی وجہ سے تھوڑا خرچ کرنے والے۔اور دوسرے بہت خرچ کرنے والے۔جو لوگ تھوڑا خرچ کرنے والے تھے وہ کہہ سکتے تھے کہ ہماری قربانیاں تو وابل نہیں کہلا سکتیں۔اس لئے ان کی خاطر فرمایا کہ طل ہی سہی۔وہ تمہیں وابل جیسا فائدہ ہی دے دے گی۔وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عمل کی اصل حقیقت دیکھتا ہے اس کی ظاہری شکل نہیں دیکھتا۔اس لئے تھوڑا دینے والا گو دوسرے کے مقابلہ میں کم دیتا ہے مگر چونکہ اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ دے دیتا ہے اس لئے اس کو اس طلّ سے ہی وابل والا فائدہ پہنچ جاتا ہے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی دو اغراض بیان فرمائی ہیں۔اوّل ابتغاء مرضات اللہ دوم تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول اور قوم کی مضبوطی۔کیونکہ صدقات کے نتیجہ میں غرباء کو ترقی کے مواقع میسر آجاتے ہیں اور وہ بھی اپنی قوم کا ایک مفید جزو بن جاتے ہیں۔جس قوم کے افراد گرے ہوئے ہوں وہ قوم بھی یقینی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتی کیونکہ گرے ہوئے افراد اس کے لئے بوجھ بن جاتے ہیں اور وہ ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھانے سے قاصر رہتی ہے۔اسی لئے یورپین قومیں جن کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں وہ بھی محض اس لئے صدقہ و خیرات کرتی رہتی ہیں کہ قوم کے غرباء کی ترقی سے خود قوم بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔غرض صدقہ کی اسلام نے دو اغراض بتائی ہیں۔اوّل اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول جو سب سے بڑی اور حقیقی غرض ہے۔دوم قوم کی مضبوطی۔کیونکہ غرباء کی مدد درحقیقت اپنی مدد ہوتی ہے۔