تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 478

دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہیں کہ جب مومن کمزور اور بے سہارا لوگوں کی امداد کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد کرتا اور ان کی مضبوطی اور ترقی کے سامان پیدا کرتا ہے۔اسی نکتہ کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث اشارہ کرتی ہے کہ جو شخص اپنے مومن بھائی کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کے مشکل اوقات میں اس کی تائید فرماتا ہے۔(مسلم کتاب البر و الصلة و الادب۔باب تحریم الظلم) (۳) پھر روحانی طور اس انفاق کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے اپنا مال خرچ کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ دین میں مضبوط ہوتا جاتا ہے اسی وجہ سے میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو بارہا کہا ہے کہ جو شخص دینی لحاظ سے کمزور ہو وہ اگر اور نیکیوں میں حصہ نہ لے سکے تو اس سے چندہ ضرور لیا جائے کیونکہ جب وہ مال خرچ کرے گا تو اس سے اس کو ایمانی طاقت حاصل ہو گی اور اس کی جرأت اور دلیری بڑھ جائے گی اور وہ دوسری نیکیوں میں بھی حصہ لینے لگ جائے گا۔یہ معنے اس صورت میں ہوں گے جبکہ تَثْبِیْتًا کو حال بنایا جائے۔اگر اسے مفعول لِاَجْلِہٖ قرار دیں تو پھر پہلے دو معنی ہی ہوں گے۔اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ کیا تم میں سے کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو۔تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔(اور) اسے اس میں سے ہر قسم کے پھل ملتے (رہتے) ہوں۔اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ اور اسے بڑھاپے نے بھی آ پکڑا ہو۔اور اس کے چھوٹے (چھوٹے) بچے ہوں۔پھر اس باغ پر ایک ایسا بگولا چلے فِيْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ جس میںآگ (کی سی گرمی )ہو اور وہ (باغ) جل جائے۔(دیکھو )اللہ (تعالیٰ) تمہارے (فائدہ کے) لئے اس