تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 473

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ اے ایمان دارو!تم اپنے صدقات کو احسان جتانے اور الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا يُؤْمِنُ تکلیف دینے (کے فعل) سے اس شخص کی طرح ضائع نہ کر لو جو لوگوں کے دکھانے کے لئے مال خرچ کرتا ہے۔اور بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا کیونکہ اس کی حالت تواس پتھر کی حالت کے مشابہ ہے جس پر کچھ مٹی (پڑی فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَيْءٍ ہوئی) ہو اور اس پر تیز بارش ہو۔اور وہ اسے (مٹی دھو کرپھر )صاف پتھر(کا پتھر) کر دے۔یہ( ایسے لوگ ہیں کہ ) مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۲۶۵ جوکچھ کماتے ہیں اس کا کوئی حصہ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا اور اللہ اس قسم کے کافروں کو (کامیابی کی )راہ نہیں دکھاتا۔حلّ لُغات۔صَفْوَانٌ کے معنے ہیں اَلصَّخْرُ الْاَمْلَسُ۔چکنا پتھر۔(اقرب) صَلْدًا اقرب الموارد میں لکھا ہے کہ مَالَایُنْبِتُ شَیْئًا مِنَ الْحِجَارَۃِ وَ مِنَ الْاَرْضِیْنَ یُقَالُ حَـجْرٌ صَلْدٌ وَ اَرْضٌ صَلْدٌ۔یعنی جس پتھر یا زمین میں سے کچھ نہ اُگے اسے حَجْرٌ صَلْدٌ یا اَرْضٌ صَلْدٌ کہتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اے مومنو! مَنّ اور اَذًی کے ذریعہ اپنے صدقات کو ضائع مت کرو۔صدقات کے ضائع کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے نتائج کو ضائع نہ کرو۔كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِسے معلوم ہوتا ہے کہ ریا کے لئے کوئی کام کرنا خواہ کتنا ہی اچھا ہو بہت بُرا ہوتا ہے۔مَنّ اور اَذًی والا صدقہ تو احسان جتانے یا تکلیف پہنچانے کے نتیجہ میں باطل ہوتا ہے مگر ریا والے کا صدقہ تو ریا کا خیال آتے ہی باطل ہو جاتا ہے۔بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَنّ وَ اَذًی والے کا صدقہ بھی ریاء الناس والے کی طرح ضائع چلا جائے گا کیونکہ گو اس شخص کے دیتے وقت ریا مدنظر نہ تھی مگر اس کے دل کے گوشوں