تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 472
تفسیر۔اس نصیحت کے بعد کہ خواہ کوئی دین کے لئے چندہ دے یا ان لوگوں کے لئے مالی قربانی کرے جو دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتے اور ہجرت کر کے مرکز میں آجاتے ہیں یا غرباء کی اعانت کے لئے مال خرچ کرے۔اسے یہ نہیں چاہیے کہ وہ انہیں طعنہ دے کہ تم ہمارے چندوں پر پلتے ہو۔اور اس طرح ان کو اذیت پہنچانے کا موجب بنے یا یہ کہے کہ ہم نے تم سے فلاں وقت یہ سلوک کیا تھا۔اور ان پر احسان جتانے لگ جائے۔اب بتاتا ہے کہ اس سے تویہ بہتر ہے کہ انسان اپنے منہ سے کوئی کلمۂ خیر ہی کہہ دیا کرے۔مثلاً کوئی سائل آیا تو اس سے کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ضرورت کو پورا کرے اور آپ کے لئے اپنے فضل کے دروازے کھولے۔اس طرح نرمی اور محبت کے ساتھ سائل کو ٹلادے۔اور اس کے ساتھ پوری غمخواری اور اظہار ہمدردی کرے۔اور مَغْفِرَت کا لفظ استعمال کر کے اس طرف توجہ دلائی کہ تم سے اگر کوئی شخص مدد مانگتا ہے۔یا اپنی کوئی حاجت تمہارے سامنے پیش کرتا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ تم پردہ پوشی سے کام لو۔یہ نہ ہو کہ جگہ جگہ اس کی مالی کمزوری اور احتیاج کا ذکر کرتے پھرو۔اسی طرح اس آیت کے یہ بھی معنے ہیں کہ امربالمعروف یا عبادتِ لسانی یا دعا کر دینا اور لوگوں کے گناہ معاف کر دینا اس صدقہ سے زیادہ بہتر ہیں جس کے بعد ایذا رسانی کا سلسلہ شروع ہو جائے۔یعنی ایسی نیکیاں بجالانا جو جسمانی یا عقلی ہیں تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ تم ایصالِ خیر کی طرف قدم بڑھائو مگر کر نہ سکو۔وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ میں اس طرف اشارہ کیا کہ اگر روپیہ دے کر تم مَنّ اور اَذًی کے بغیر نہیں رہ سکتے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔اسے تمہارے روپے کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو کھڑا کردے گا جو تم سے بہتر خدمت دین کرنے والے ہوں گے۔اور حَلِیْمٌ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ گو وہ تمہاری خدمتوں سے بے نیاز ہے مگر اس کے حلم نے تقاضا کیاکہ وہ تم پر رحم کرے اور تمہیں ہلاکت سے بچائے چنانچہ اس نے ان احکام کے ذریعے تمہاری جنت کو تمہارے قریب کر دیا ہے۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم چاہو تو اس کی صفت غنا کے ماتحت آجائو اور چاہو تو اس کی صفتِ حلیم سے فائدہ اٹھائو۔اور ہر قسم کی نیکیاں محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کرو۔کوئی دنیوی منفعت اپنے سامنے نہ رکھو۔