تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 43
اَلتَّعْظِیْمُ بڑائی کا اظہار۔اَلْبَرَکَۃُ برکت (تاج) وَالصَّلٰوۃُ مِنَ اللّٰہِ اَلرَّحْمَۃُ ، وَمِنَ الْمَلَآ ئِکَۃِ اَلْاِسْتِغْفَارُ، وَمِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ الدُّعَاءُ۔وَمِنَ الطَّیْرِ وَالْھَوَامِّ اَلتَّسْبِیْحُ۔اور صَلٰوۃ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے رحم کرنے کے ہوتے ہیں۔اور جب ملائکہ کیلئے استعمال ہو تو اس وقت اس کے معنے استغفار کے ہوتے ہیں اور جب مومنوں کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے دعا یا نماز کے ہوتے ہیں اور جب پرند اور حشرات کیلئے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے تسبیح کرنے کے ہوتے ہیں۔وَھِیَ لَا تَکُوْنُ اِلَّا فِی الْخَیْرِ بِخَـلَافِ الدُّعَاءِ فَاِنَّہٗ یَکُوْنُ فِی الْخَیْرِ وَالشَّرِّ۔اور لفظ صلٰوۃ صرف نیک دعا کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن لفظ دعا، بد دعا اور نیک دعا دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔لفظ صلٰوۃ کے ایک معنے حُسْنُ الثَّنَاءِ مِنَ اللّٰہِ عَلَی الرَّسُوْلِ کے بھی ہیں یعنی جب صَلَّی فعل کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہو تو اس وقت اس کے معنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم کی بہترین تعریف کے ہوتے ہیں۔(اقرب) وَیُسَمّٰی مَوْضِعُ الْعِبَادَۃِ الصَّلٰوۃُ اور عبادت گاہ کو بھی اَلصَّلٰوۃ کہہ دیتے ہیں (مفردات) پس یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے معنے ہوںگے (۱) نماز کو باجماعت ادا کرتے ہیں (۲) نماز کو اس کی شرائط کے مطابق اور اس کے اوقات میں صحیح طو رپر ادا کرتے ہیں (۳) لوگوں کو نماز کی تلقین کر کے مساجد کو بارونق بناتے ہیں (۴) نماز کی محبت اور خواہش لوگوں کے دلو ںمیں پیدا کرتے ہیں (۵) نماز پر دوام اختیار کرتے ہیں اور اس پر پابندی اختیار کرتے ہیں (۶) نماز کو قائم رکھتے ہیں یعنی گرنے سے بچاتے رہتے اور اس کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ سے مراد وہی جنگیں ہیں جن کا فتح مکہ کے ساتھ تعلق تھا کیونکہ صبر اور صلوٰۃ کا تعلق تکلیفوں کے وقت سے ہی ہوتا ہے۔پہلے یہود کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کے موقعہ پر فرمایا تھا کہ صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اِس کی مدد مانگو(البقرة : ۴۶) اب فتح مکہ کے ذکر پر فرماتا ہے کہ جنگ میں تمہیں تکلیفیں تو بے شک ہوں گی اور تمہارے اقرباء بھی شہید ہوں گے لیکن اس تکلیف پر بزدلی نہ دکھانا بلکہ استقلال سے قربانیاں کرتے چلے جانا اور تکالیف کے مواقع پر اپنے خدا سے صبر اور دعا کے ذریعے مدد مانگنا۔اس آیت میں یہ عظیم الشان مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان کے لئے کسی تکلیف پر رونا یا اس کے دل میں مدد کا احساس پیدا ہونا منع نہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور تم اُن کو محسوس بھی کرو گے لیکن مَیں تمہیں اس درد کا علاج یہ بتاتا ہوں کہ صبر اور دعا کو کام میں لاؤ۔یہ نہیں فرمایا کہ قطعی طور پر