تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 42

پہنچے اس پر تو صبر سے کام لے۔یعنی جزع فزع نہ کر (۲)دوسرے نیک باتوں پر اپنے آپ کو روک رکھنا۔یعنی نیکی کو مضبوط پکڑ لینا۔اِن معنوں میں یہ لفظ اس آیت میں استعمال ہواہے۔فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تُطِعْ مِنْھُمْ اٰثِمًا اَوْکَفُوْرًا۔(الدھر: ۲۵)یعنی اپنے رب کے حکم پر قائم رہ اور انسانوں میں سے گنہگار اور ناشکر گذار کی اطاعت نہ کر۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر احکام قرب الٰہی کے حصول کے لئے دئیے گئے ہیں۔اُن پر استقلال سے قائم رہنا اور اپنے قدم کو پیچھے نہ ہٹانا بھی صبر کہلاتا ہے۔(۳)تیسرے معنے اس کے بدی سے رکے رہنے کے ہیں۔ان معنوں میں یہ لفظ اس آیت میں استعمال ہوا ہے۔وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیْھِمْ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (الحجرات : ۶) یعنی اگر وہ تجھے بلانے کے گناہ سے باز رہتے اور اس وقت تک انتظار کرتے جب تک کہ تو باہر نکلتا تو یہ ان کے لئے بہت اچھا ہوتا مگر اب بھی وہ اصلاح کر لیں تو بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔زیر تفسیر آیت میں چونکہ کوئی قرینہ نہیں اس لئے یہاں تینوں معنے مراد لئے جائیں گے۔اور اِس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہر ایک کام کے دو ذرائع ہوتے ہیں۔ایک جسمانی اور ایک روحانی اور دونوں ذریعوں کو استعمال کرنے سے کامیابی ہوتی ہے۔پس تم دونوں ذریعوں کو استعمال کرو۔یعنی (۱)خدا تعالیٰ کی راہ میں جو تکالیف پہنچیں اُن کو بہادری سے برداشت کرو(۲) جو ذرائع کسی کام کے حصول کے لئے مقرر ہیں۔اُن کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں کوشاں رہو۔(۳)جو باتیں اِس کام میں روک ہوتی ہوں۔اُن سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔دوسرا ذریعہ روحانی بتایا کہ دعا کرو۔اور عبادت میں لگ جاؤ۔اَلصَّلٰوۃ صَلوٰۃٌ کے اصل معنے عبادت الٰہی کے ہیں۔لیکن چونکہ نماز بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔اس لئے نماز کو بھی صلوٰۃ کہتے ہیں۔(۲) صَلوٰۃٌ کا لفظ دعا کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(۳) دین کو بھی صلوٰۃکہتے ہیں۔(۴) رحمت کو بھی صلوٰۃ کہتے ہیں۔(۵) استغفار کو بھی صلوٰۃ کہتے ہیں۔(۶) حسنِ ثنا کے معنوں میں بھی صلوٰۃ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔(۷) صلوٰۃکے معنے درود بھیجنے کے بھی ہوتے ہیں(اقرب)۔صَلَّی سے مشتق ہے اور اس کا وزن فَعْلَۃٌ ہے۔الف وائو سے منقلب ہے۔صَلَّی (یُصَلِّیْ) کے معنے دعا کرنے کے ہیں اور اَلصَّلٰوۃُ کے اصطلاحی معنے عِبَادَۃٌ فِیْہَا رَکُوْعٌ وَسُجُوْدٌ کے ہیں یعنی اس مخصوص طریق سے دعا کرنا جس میں رکوع و سجود ہوتے ہیں جس کو ہماری زبان میں نماز کہتے ہیں۔اس کے علاوہ اس کے اور بھی کئی معانی ہیں جو بے تعلق نہیں بلکہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔چنانچہ اس کے دوسرے معنےمندرجہ ذیل ہیں اَلرَّحْمَۃُ رحمت۔اَلدِّیْنُ شریعت۔الْاِسْتِغْفَارُبخشش مانگنا۔اَلدُّعَاءُ دعا (اقرب)