تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 464

بَلٰی کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے پہلے خواہ نفی ہو یا اثبات اس سے مراد ’’ہاں‘‘ ہی ہوتی ہے۔اگر اس جگہ نَعَمْ کا لفظ ہوتا تو اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے تھے کہ ہاں مجھے ایمان نہیں ہے۔مگر اس جگہ بَلٰی کا لفظ رکھا گیا ہے۔جس سے یہ شبہ دُور ہو گیا کیونکہ اس کے معنے ہر صورت میں اثبات ہی کے ہوتے ہیں۔ایمان کے بعد لٰکِن کا لفظ رکھا گیا ہے۔جو استدراک کےلئے آتا ہے یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ مجھے ایمان تو ہے کہ خدا تعالیٰ مردے زندہ کر سکتا ہے لیکن میں اس سے ایک زائد بات چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ میرے دل کو بھی اطمینان حاصل ہو جائے کہ تو میری قوم کے ساتھ ایسا سلوک کرے گا۔جیسے ایک شخص جو بیمار ہو اسے ایمان تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ بیماروں کو اچھا کر سکتا ہے۔لیکن اطمینان نہیں ہو سکتا کہ اسے بھی اچھا کرےگا۔یہ اطمینان خدا کے بتانے سے ہی ہو سکتا ہے۔یا مثلاً ہر شخص جانتا ہے کہ بھوک کے بعد لوگ سیر ہو جایا کر تے ہیں مگر کیا اس سے ایک فاقہ زدہ کو یہ یقین ہو جائےگا کہ مجھے بھی کھانا مل جائےگا اور میں سیر ہو جائوں گا ؟ پس ایمان تو امر غیب کے متعلق ہوتا ہے جو انسان کی آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے۔اور کسی چیز کے ہونے یا ہو سکنے کے متعلق اس کے یقین کامل کو ظاہر کرتا ہے۔لیکن اطمینان کا لفظ دو چیزوں کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے۔ایک شک کے مقابلہ میں۔دوسرے کرب و اضطراب کے مقابلہ میں۔وہ اطمینان جو شک کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔وہ یہاں مراد نہیں۔بلکہ وہی اطمینان مراد ہے۔جو کرب اور اضطراب کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے اثباتِ ایمان موجود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایمان تھا کہ خدا تعالیٰ احیاء موتیٰ کر سکتا ہے مگر وہ اپنی قوم کے متعلق بھی یہ اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے کہ اس پر الٰہی فضل نازل ہو گا اور وہ بھی زندہ قوم بن جائےگی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔تُو چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ سدھا لے۔پھر ہر ایک پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دے۔پھر انہیں بُلا۔وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے۔اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غالب اورحکمت والا ہے۔لوگ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ چار پرندے پکڑ کر ان کا قیمہ کر لے۔اور ان کو اپنی طرف لے لے۔لیکن یہ بالکل غلط اور محاورہ کے خلاف معنے ہیں۔کیا کوئی شخص قیمہ کر کے اسے اپنی طرف بھی لیا کرتا ہے۔پس یہ کوئی معنے نہیں کہ قیمہ کر کے اسے اپنی طرف لے لے۔اس کے یہی معنے ہیں کہ توان کو اپنے ساتھ سدھالے۔(مفردات واقرب الموارد) جُزْءً ا کے متعلق بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لفظ بتلاتا ہے کہ یہاںقیمہ کرنا ہی مراد ہے مگر یہ بھی غلط ہے۔جُزْءٌ