تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 463

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى ١ؕ قَالَ اَوَ اور (اس واقعہ کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ اے میرے ربّ مجھے بتا کہ تو مُردے کس طرح زندہ کرتاہے۔لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِيْ١ؕ قَالَ فَخُذْ فرمایا کہ کیا تُو ایمان نہیں لا چکا۔(ابراہیم ؑ نے )کہا کیوں نہیں (ایمان تو بے شک حاصل ہو چکا ہے) لیکن اپنے اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ اطمینان قلب کی خاطر( میںنے یہ سوال کیا ہے)۔فرمایا۔اچھا تُو چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ سدھا جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا١ؕ وَ اعْلَمْ لے۔پھر ہر ایک پہاڑ پر ان میں سے ایک (ایک )حصہ رکھ دے۔پھر انہیں بلا وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌؒ۰۰۲۶۱ آئیں گے۔اور جان لے کہ اللہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔حل لغات۔صُرْ ھُنَّ صُرْکے ساتھ جب اِلٰی کا صلہ آ جا ئے تو اس کے معنے اپنی طرف مائل کر لینے کے ہو تے ہیں۔کا ٹنے کے نہیں ہو تے۔ہاں جب یہ لفظ اِلیٰ کے صلہ سے خالی ہو تو اس وقت اس کے معنے کاٹنے کے ہی ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں۔صَارَالشَّیْءَ قَطَعَہٗ۔اسے کاٹ دیا۔پس صُرْھُنَّ اِلَیْکَ کے معنے ہیں۔ان کو اپنے ساتھ سِدھالے۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے تم اس واقعہ کو بھی یاد کرو جب ابراہیمؑ نے کہا تھا۔کہ اے میرے ربّ ! مجھے بتا کہ تُو مُردے کس طرح زندہ کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کیا تو ایمان نہیں لا چکا؟ حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے اَوَلَمْ تُؤْمِنْ کے جواب میں بَلٰی کہا۔جس سے اس عقیدہ کا اظہار مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ مُردے زندہ کر سکتا ہے۔اور میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ وہ ایسا کر سکتا ہے گویا انہوں نے اس کے متعلق کسی شک کا اظہار نہیں کیا بلکہ اقرار کیا کہ خدا تعالیٰ یہ کام کر سکتا ہے اور مجھے اس پر کامل ایمان حاصل ہے۔