تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 465
کے معنے ایک پرندے کے ٹکڑے کے نہیں بلکہ چاروں پرندوں کا جزء مراد ہے جو ایک کا عدد ہے۔اس کی مثال قرآن کریم کی اس آیت سے ملتی ہے کہ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ۔لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۔(الحجر:۴۴۔۴۵) یعنی جہنم سب کفار کے لئے مقررہ جگہ ہے۔اس کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازہ کے لئے کفار کا ایک حصہ مقرر ہو گا۔اس جگہ جُزْءٌ کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔لیکن کوئی شخص یہ معنی نہیں کرتا کہ کفار کا قیمہ کر کے اس قیمہ کا تھوڑا تھوڑا حصہ سب دروازوں میں ڈال دیا جائےگا۔بلکہ سب مفسرین متفق ہیںکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ کافر ایک دروازہ سے لے جائے جائیں گےا ور کچھ دوسرے سے اور کچھ تیسرے سے اور کچھ چوتھے سے(روح البیان زیر آیت الحجر ۴۴،۴۵)۔پس سورہ حجر کی اس آیت نے بتلا دیا کہ جب جزء کالفظ ایک جماعت پر بولا جائے تو اس سے اس جماعت کے افراد مرادہوتے ہیں۔اور انہی معنوں میں جزء کا لفظ اس آیت میں استعمال ہوا ہے اور مراد ہر پرندہ کا جزء نہیں بلکہ چار کاجزء ہے۔اور معنے یہ ہیں کہ ہر چوٹی پر ایک ایک پرندہ رکھ دے۔یہ واقعہ جس کا اوپر ذکر کیا گیاہے۔اگر ظاہری ہوتاتو اس پر بہت سے اعتراض پڑتے ہیں۔اوّل یہ کہ احیاءِ موتی کے ساتھ پرندوںکے سدھانے کا کیاتعلق؟دوم۔چار پرندے لینے کے کیا معنے؟ کیا ایک سے یہ غرض پوری نہ ہوتی تھی؟ سوم ؔپہاڑوں پر رکھنے کا کیا فائدہ کیاکسی اور جگہ رکھنے سے کام نہ چلتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظاہری کلام نہیں بلکہ مجازی کلام ہے۔حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی احیاء موتی کا جو کام تو نے میرے سپرد کیا ہے اسے پورا کر کے دکھا۔اور مجھے بتا کہ میری قوم میںزندگی کی روح کس طرح پیدا ہو گی جبکہ میں بڈھا ہوں۔اور کام بہت اہم ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم نے وعدہ کیا ہے تو یہ کام ہو کر رہےگا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ ہوکر تو ضرور رہےگا مگر میں اپنے اطمینان کے لئے پوچھتا ہوں کہ یہ مخالف حالات کس طرح بدلیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو چار پرندے لےکر سدھا۔اور ہر ایک کو پہاڑ پر رکھ دے۔پھر ان کو بلا۔اور دیکھ کہ وہ کس طرح تیری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔یعنی اپنی اولاد میں سے چار کی تربیت کر وہ تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے۔اس احیاء کے کام کی تکمیل کریںگے۔یہ چار روحانی پرندے حضرت اسماعیلؔ۔حضرت اسحاقؔ حضرت یعقوبؔ اور حضرت یوسف علیھم السلام ہیں۔ان میں سے دو کی حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے براہ راست تربیت کی اور دو کی بالواسطہ۔پہاڑ پر رکھنے کے معنے بھی یہی تھے کہ ان کی نہایت اعلیٰ تربیت کر کیونکہ وہ بہت بڑے درجہ کے ہوںگے۔گویا پہاڑ پر رکھنے میں ان کے رفیع الدرجات ہونے کی طرف