تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 455

قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۶۰ لئے کیا تا تجھے لوگوں کے لئے ایک نشان بنائیں۔اور ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم انہیں کس طرح اپنی اپنی جگہ رکھ کر جوڑتے ہیں۔پھر ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔پس جب اس پر( حقیقت) پورے طور پر ظاہر ہو گئی تو اس نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اللہ (تعالیٰ )ہر ایک چیز پر قادر ہے۔حلّ لُغات۔اَوْکَا لَّذِیْ کَاف مثال کےلئے بھی آ تا ہے اور تا کید کے لئے بھی۔اسی طرح تشبیہ اور تمثیل کے لئے بھی آتا ہے۔یہاں پہلے معنوں کے لئے ہے۔(اقرب) خَا ویَۃٌ خَوٰ ی یَخْوِیْ خِوَاءً سے نکلا ہے۔کہتے ہیں خَوَی الْبَیْتُ: سَقَطَ وَ تَھَدَّمَ۔گھر گِر گیا۔فَرَغَ وَخَلَا۔گھر خا لی ہو گیا اور ویران ہو گیا۔(المنجد) بَلْ حرف ہے جو اضرؔاب کے معنے دیتا ہے۔یعنی بات کو پھیر کر دوسری طرف لے جانا۔یہ اضراب دو طرح کا ہو تا ہے ایک تو انکار کی غرض سے جیسے قرآن کر یم میں آ تا ہے وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ۔(الانبیاء: ۲۷) یعنی مشرک کہتے ہیں کہ رحمٰن خدا نے اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔لیکن یہ بات غلط ہے جن کو یہ لو گ خدا کا بیٹا کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے معزز بندے ہیں۔اضراب کی دوسری قسم میں ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف مضمو ن کو پھیر نا مقصود ہو تا ہے۔بَلْ سے پہلے جملہ کی تردید مدّ نظر نہیں ہو تی۔اس آیت میں بھی بَلْ سے پہلے کی بات بھی درست ہے اور بعد کی بھی صرف ایک نئے مضمون کی طرف متو جہ کیا گیا ہے۔(المنجد) نُنْشِزُھَا نَشَزَ کے معنے ہیں اِرْتَفَعَ اُٹھا۔اور اَنْشَزَہٗ کے معنے ہیں رَفَعَہٗ اسے اٹھا یا یا کھڑا کیا۔پس نُنْشِزُ ھَا کے معنے ہیں ہم ان کو کھڑا کر تے ہیں۔یا ہم انہیں اُٹھا تے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔مفسّر ین کہتے ہیں کہ یہ عزیر نبی کا وا قعہ ہے۔وہ ایک دفعہ ایک تبا ہ شدہ بستی کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی تبا ہی اور خستہ حا لی کو دیکھ کر کہا کہ خدا تعالیٰ اس بستی میں رہنے والوں کو ان کی موت کے بعد کس طرح زندہ کرے گا؟ اس پرخدا تعالیٰ نے انہیں مار ڈالا اور وہ سو سال تک اسی حالت میں مُردہ پڑے رہے۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے اس بستی کے لو گوں کو آ باد کر دیا اور انہیں زندہ کر کے دکھا دیا کہ خدا تعالیٰ کیسا قادر ہے اور وہ مردوں کو کس طرح زندہ کیا کر تا ہے۔جب وہ سو سال کے بعد زندہ ہو کر اُٹھ بیٹھے تو خدا تعالیٰ نے انہیں کہا کہ اپنے کھا نے کو دیکھ کہ وہ بھی ابھی تک سڑا نہیں اورپھر اس نے ان کے گدھے کو بھی زندہ کر دیا اور اس کی گلی سڑی ہڈیوں پر