تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 451

پہلے سوال پر حضرت ابراہیم علیہ السلام خا موش ہو گئے اور دوسرے سوال پر وہ خا موش ہو گیا۔پس میرے نزدیک یہ تو جیہہ صحیح نہیں کیو نکہ اگر یہی مراد ہوتی اور وہ ایسا ہی جھو ٹا اور کذّاب تھا اور اپنے آپ کو خدا بنا رہا تھا تو وہ یہ جواب بھی دے سکتا تھا کہ سورج کو مشرق سے تومَیںہی لا رہا ہوں۔تم اپنے خدا کو کہو کہ وہ اسے مغرب سے لے آئے مگر اس نے یہ نہیں کہا۔بلکہ قر آن کریم بتا تا ہے کہ وہ خا موش ہو گیا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا۔بلکہ بات دراصل کچھ اور تھی۔ورنہ بحث میں تو کو ئی چپ ہوا ہی نہیں کرتا۔لوگ بیہودہ باتوں پر بھی بحث کر تے چلے جاتے ہیں۔حتّٰی کہ اس امر پر بھی بحث کر تے ہیں کہ انسان کا وجود ہے یا نہیں۔اور لوگ پھر بھی خاموش نہیں ہوتے۔لیکن وہ خا موش ہو گیا۔اس سے صا ف معلوم ہوتا ہے کہ وہ کو ئی ایسی بات تھی جس کے متعلق اس نے سمجھا کہ اگر میں نے اس کا جواب دیا تو میں مصیبت میں پھنس جاؤںگا۔اس لئے سوائے خامو شی کے اس کے لئے اور کو ئی چارہ نہ رہا۔جیوش انسا ئیکلو پیڈیا میں اس بحث کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ جب ’’ حضرت ابراہیم ؑ اس با دشاہ کے سامنے جس کا نام نمرود تھا پیش ہوئے تو اس نے کہا کیا تُو نہیں جانتا کہ میں خدا ہوں اور دنیا کا حا کم ہوں اور میں ہی مارتا اور زندہ کر تا ہوں چو نکہ ان کا سب سے بڑا خدا سورج دیوتا سمجھا جاتا تھا اور اسے آ قا بھی کہا جاتا تھا۔حضرت ابراہیمؑ نے اسے کہا کہ اگر تُو خدا اور دنیا کا حا کم ہے تو کیوں سورج کو مغرب سے نکال کر مشرق کی طرف نہیں چڑھا تا۔اگر تو خدا اور دنیا کا حاکم ہے تو مجھے بتا کہ میرے دل میں اس وقت کیا ہے اور یہ کہ میرا آئندہ کیاحال ہو گا۔اس پر نمرود کی زبان بند ہو گئی اور وہ حیران رہ گیا۔حضرت ابراہیمؑ نے اپنی بات کو جاری رکھا۔اور کہا کہ تُو کو نس کا بیٹا ہے اور اسی طرح کا ایک فانی وجود۔تو اپنے باپ کو موت سے نہیں بچا سکا اورنہ خود اس سے بچ سکتا ہے۔‘‘ (جیوش انسا ئیکلو پیڈیا زیر لفظ Abraham) اسی طرح طا لمو د میں بھی حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی اس بحث کا ذکر کیا گیا ہے۔لیکن طا لمود اور قر آ ن کریم کے بیان میں فرق ہے۔قرآ ن کریم میں زندہ کر نے اور مارنے کا ذکر پہلے ہے اور سورج کی تبدیلی کا ذکر پیچھے۔لیکن طا لمود میں سورج کی تبدیلی کا ذکر پہلے ہے اور احیا ء و اماتت کا بعد میں۔دوسرے طالمود میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نمردو بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے آپ کو کہاکہ تُو بتوں کی پو جا کیوں نہیں کرتا؟ انہوں نے کہا۔جن کو آ گ جلا دیتی ہے ان کی کیا پو جا کروں۔اس نے کہا۔پھر آگ کی کیوں نہیں کرتا۔انہوں نے کہا۔جسے