تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 450
اَنَا اُحْيٖ وَ اُمِيْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاْتِيْ بِالشَّمْسِ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔(اس پر )اس نے کہا (کہ) میں( بھی) زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ابراہیم نے کہا (کہ اگر یہ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِيْ بات ہے) تو اللہ( تعالیٰ تو) سورج کو مشرق (کی طرف) سے لاتا ہے۔(اب) تو اسے مغرب( کی طرف) سے لے آ۔كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَۚ۰۰۲۵۹ اس پر وہ( کافر) مبہوت ہو( کر رہ) گیا۔اور( یہ ہونا ہی تھا کیونکہ) اللہ ظالم لوگوں کو (کامیابی کی )راہ نہیں دکھاتا۔حل لغات۔حَآجَّ حَآجَّہٗ کے معنے ہیں خَا صَمَہٗ (اقرب) اس سے جھگڑا کر نے لگ گیا۔حَآ جَّ کا لفظ قرآن کریم میں جتنی جگہ استعمال ہوا ہے بُرے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے سوائے ایک جگہ کے کہ وہاں اس کے ایک اور معنے لئے جا سکتے ہیں۔لغت والے بھی یہی لکھتے ہیں کہ یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔پس اس کے معنے ہیں کج بحثی۔مجا دلہ۔مکابرہ۔مُلْکُ کے معنے بادشاہت کے بھی ہیں اور ملک کے بھی ہیں۔(اقرب) اِحْیَا ءُ کے معنے ہیں زندہ کر نا۔خو شی پہنچا نا۔نمو کی طا قت دینا۔آ باد کر نا۔(اقرب) اِمَا تَۃٌ کے معنے ہیں مُردہ کر نا۔رنج پہنچا نا۔نمو کی طا قت نکال ڈالنا۔(اقرب) بُھِتَ کے معنے ہیں چہرہ کا رنگ اُڑ گیا۔گھبرا گیا۔مُنہ بند ہو گیا اور کو ئی جواب نہ بن سکا۔(اقرب) تفسیر۔اس آ یت کے متعلق مفسّرین کا خیال ہے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام اور ایک کافر با دشاہ میں جس کا نام نمرود بیان کیا جا تا ہے ہستی باری تعالیٰ پر بحث ہو ئی تھی۔جب حضرت ابراہیمؑ نے اسے کہا کہ میرا ربّ وہ ہے جو زندہ کر تا اور مارتا ہے۔تو اس نے کہا کہ ایسا تو میں بھی کر لیتا ہوں۔چنا نچہ اس نے چند قیدی منگوا ئے جن میں سے بعض کو اُس نے چھوڑ دیا اور بعض کو قتل کر دیا۔یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑ نے سمجھا کہ میری پہلی دلیل تو کار گر نہیں ہوئی اب میںکوئی اور دلیل پیش کروں۔چنا نچہ انہوں نے کہا کہ میرا ربّ وہ ہے جو سورج کو مشرق سے لاتا ہے اگر تُو بھی ربّ ہے تو اسے مغرب سے لے آ۔اس پر وہ خا موش ہو گیا اور حضرت ابرا ہیم علیہ السلام غا لب آ گئے(درمنثور زیر آیت ھذا)۔مگرمیرے نزدیک ان کی یہ قیاس آ رائی درست نہیں۔کیو نکہ اس طرح تو دونوں ہی خا موش ہو گئے تھے۔