تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 41

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو۔صبر اور دُعا کے ذریعہ سے (اللہ کی) مددمانگو۔اللہ(تعالیٰ) یقیناً مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۰۰۱۵۴ صابروں کے ساتھ (ہوتا) ہے۔حلّ لُغات۔اَلصَّبْرُ صبر کے اصل معنے تو رُکنے کے ہیں۔مگر اس لفظ کے استعمال کے لحاظ سے اس کے مختلف معانی ہیں۔چنانچہ اس کے ایک معنے تَرْکُ الشِّکْوٰی مِنْ اَلَمِ الْبَلْوٰی لِغَیْرِ اللّٰہِ (اقرب)۔یعنی جب کوئی مصیبت اور ابتلاء وغیرہ انسان کو پہنچے اور اسے تکلیف ہو تو خدا تعالیٰ کے سوا دوسروں کے پاس اس کی شکایت نہ کرنا صبرکہلاتا ہے۔ہاں اگر وہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی بے کسی کی شکایت کرتا ہے تو یہ صبر کے منافی نہیں۔چنانچہ لغت کی کتاب اقرب الموارد میں لکھا ہے۔اِذَادَعَااللّٰہَ الْعَبْدُ فِیْ کَشْفِ الضُّرِّ عَنْہُ لَا یُقْدَحُ فِیْ صَبْرِہٖ۔جب بندہ خدا تعالیٰ سے اپنی مصیبت کے دور کرنے کے لئے دعا کرتا ہے تو اُس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اُس نے بے صبری دکھائی ہے۔کُلّیاتِ ابی البقاء میں لکھا ہے کہ صبر انسان کی ایک اعلیٰ درجہ کی صفت ہے اور مختلف حالات میں اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔اَمَّا فِی الْمُحَارَبَۃِ فَشَجَاعَۃٌ اگر لڑائی میں انسان استقامت سے کام لے اور مشکلات سے نہ گھبرائے تو اُسے شجاعت کہتے ہیں۔وَفِیْ اِمْسَاکِ النَّفْسِ عَنِ الْفُضُوْلِ اَیْ عَنْ طَلْبِ مَا یَفْضَلُ عَنْ قَوَامِ الْمَعِیْشَۃِ فَقَنَاعَۃٌ وَعِفَّۃٌ (اقرب) اور اگر ضروریات زندگی سے زائد چیزوں کے متعلق انسان اپنی خواہشات کو ترک کر دے اور نفس کو روک لے تو اُسے قناعت اورعفت کہتے ہیں۔چونکہ صبر کے اصل معنے رُکنے کے ہوتے ہیں۔اس لئے محققین لغت نے لکھا ہے کہ اَلصَّبْرُ صَبْرَ انِ صَبْرٌ عَلٰی مَاتَھْوِیْ وَصَبْرٌ عَلٰی مَاتَکْرَہُ (اقرب)۔یعنی صبر کی د۲و قسمیں ہیں۔جس چیزکی انسان کو خواہش ہو اس سے باز رہنا بھی صبر کہلاتا ہے۔اور جس چیز کو ناپسند کرتا ہو لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ آجائے۔اُس پر شکوہ نہ کرنا بھی صبر کہلاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم اوراحادیث سے ثابت ہے صبر اصل میں تین قسم کا ہوتا ہے۔(۱) پہلا صبر تو یہ ہے کہ انسان جزع فزع سے بچے۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے۔وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ (لقمان: ۱۸) تجھے جو کچھ تکلیف