تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 40
جواب دینا۔اُس کے نام کی عظمت قائم کرنے کی کوشش کرنا۔اور بار بار اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کرنا تاکہ اس کے نتیجہ میں (۱)خدا تعالیٰ کی صفات انسان کے دل پر نقش ہوں (۲)اور پھر وہ مٹیں نہیں بلکہ ہمیشہ قائم رہیں (۳)اور انسان کے ہر قول و عمل سے ان کا ظہور ہو۔پھر ذکر کے ایک معنے چونکہ عزت اور شہرت کے بھی ہوتے ہیں۔اس لئے اَذْکُرْ کُمْ کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیںکہ اگر مسلمان اللہ تعالیٰ کو یادرکھیں گے اور اس کے احکام پر عمل کرتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی انہیں عزت اور شہرت عطا فرمائے گا۔اور آخرت میں بھی انہیں اپنے لازوال قرب سے نوازے گا۔پھر فرماتا ہے وَ اشْكُرُوْا لِيْ۔تم میرا شکر کرو۔یعنی تمہیں صرف اس بات پر مطمئن نہیں ہوجانا چاہیے کہ تم خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہو بلکہ تمہارا یہ کام بھی ہے کہ تم گذشتہ انعامات پر اُس کا شکر ادا کرتے رہو اور تمہارے اعمال اور تمہاری عبادات ان انعامات پر مبنی ہو ں جو ہم پہلے تم پر کر چکے ہیں۔وَلَا تَکْفُرُوْنِ اور ہم نے جو تم پر انعامات نازل کئے ہیں۔ان کی ناقدری مت کرو۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عورتوں کی نسبت فرمایا کہ وہ دوزخ میں مردوں کی نسبت زیادہ جائیںگی۔عورتوں نے پوچھا۔یا رسول اللہ ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ ؐ نے فرمایا اِس کی یہ وجہ ہے کہ تم میں ناشکری کا مرض زیادہ پایا جاتا ہے(بخاری کتاب الایمان باب کفران العشیر و کفر دون کفر)۔ناشکری کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں دی ہیں اُن کو موقعہ اور محل پر استعمال نہ کیا جائے۔خدا تعالیٰ نے کان اس لئے دئیے ہیں کہ خدائے رحمٰن کی باتیں سُنی جائیں لیکن لوگ ان کو گناہ کی باتیں سننے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔آنکھیں اُن کو اس لئے دی گئی ہیں کہ وہ ان کے ذریعہ علم و عرفان حاصل کر یں۔مگر کوئی ان کے ذریعہ یہ دیکھتا ہے کہ فلاں کے پاس اتنی دولت کیوں ہے ؟ اور کوئی کسی اور ناجائز جگہ پر ان کو استعمال کرتا ہے۔اسی طرح زبان ان کو اس لئے دی گئی ہے کہ وہ اُس سے اچھی گفتگو کریں۔اور خدا تعالیٰ کا ذکر کریں مگر اُسے بُری اور ناپسندیدہ باتوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔مثلاً گالیاں دیتے ہیں۔چغل خوری کرتے ہیں۔غیبت کرتے ہیں۔جھوٹ بولتے ہیںاور اس طرح خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں۔پس فرمایا کہ تم میری نعمتوں کی قدرکرو۔اور جو انعامات میں نے تم پر کئے ہیںاُن کو عظمت کی نگاہ سے دیکھو اور یہ اقرار کرو کہ ہم ان انعامات کو صحیح طور پر استعمال کریں گے۔ان کا غلط استعمال کر کے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی بے حرمتی نہیں کریںگے۔