تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 406

سے انکار نہیں کیا۔بلکہ خود خواہش کی کہ ہم پر کو ئی با دشاہ مقرر کیاجائے تا کہ دشمن کے مظالم کا انسداد ہو۔یہ بات بتاتی ہے کہ ان آ یات میںجس واقعہ کا ذکر ہے وہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام کے زما نہ سے بہت بعد کا ہے۔ورنہ حضرت موسیٰ ؑ کے زما نہ میں تو انہوں نے لڑنے سے کلّی طور پر انکار کردیا تھا مگر یہاں انہوں نے انکار نہیں کیا بلکہ اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ہم پر کو ئی بادشاہ مقرر کیا جا ئے تا کہ ہم خدا تعالیٰ کے راستہ میں اپنے دشمنوں سے لڑائی کر یں۔وَ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت (یعنی جدعون ) کو بادشاہ بنا کر (اس کام کے لئے ) مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا۔اسے ہم پر حکومت کس طرح مل سکتی ہے جبکہ ہم اس کی نسبت حکومت کے زیادہ حق دار ہیں۔بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اور اسے مالی فراخی بھی (کوئی ایسی زیادہ) عطا نہیں ہوئی۔اس نےکہا کہ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَيْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَ اللہ نے اسے تم پر یقیناًفضیلت دی ہے اور اسے علمی اور جسمانی لحاظ سے (تم سے زیادہ) فراخی عطا کی ہے۔الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۰۰۲۴۸ اور اللہ جسے پسند کر تا ہے اسے اپنا ملک عطا کرتا ہے۔اور اللہ کشائش دینے والا (اور )بہت جاننے والا ہے۔تفسیر۔بنی اسرا ئیل نے جب درخواست کی کہ ہمارے لئے ایک با دشاہ مقرر کیا جائے جس کی کما ن میں ہم دشمنوں سے جنگ کریں تو ان کا خیال تھا کہ انہی میں سے کسی کو بادشاہ مقرر کردیا جا ئےگا۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہتا تھا اس لئے ان کی منشاء کے خلاف ایک شخص کو با دشاہ مقرر کر دیا۔اِس پر اُن کی مخفی ایمانی کمزوری ظاہر ہو گئی اور انہوں نے اعتراض کر نے شروع کر دئیے کہ اسے کیوں بادشاہ بنا دیا گیا ہے ؟اور پھر انہوں نے اپنے اس اعتراض کو تقویت دینے کے لئے کہا۔(۱) ہمارے مقا بلہ میں اسے کوئی ظاہری وجاہت حاصل