تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 407
نہیں۔ہم اعلیٰ خا ندان سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ادنیٰ خا ندان میں سے ہے اس لئے بادشاہت ہمارا حق تھا نہ کہ اس کا۔(۲) یہ ما لی لحاظ سے غربت میں مبتلا ہے حا لا نکہ با دشاہت کے لئے دولت کی ضرورت ہو تی ہے۔پس ہم اسے بادشاہ تسلیم کر نے کے لئے تیار نہیں۔قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَيْكُمْ۔اُن کے نبی نے پہلی بات کا تو یہ جواب دیا کہ اس کے انتخاب میں خدائی ہا تھ ہے اور بڑائی اِسی طرح ظاہرہو تی ہے۔کہ خدا تعالیٰ ایک شخص کو دوسروں کے مقا بلہ میںچن لیتا ہے اور پھر اُسے مخالفت کے با وجود کامیاب کر دیتا ہے۔اِسی طرح طالوت کو خدا تعالیٰ نے تم میں سے چن لیا ہے اور اس طرح اسے بزرگی اور برتری حاصل ہو گئی ہے۔دوسرا سوال اُن کا یہ تھا کہ وہ مال دارنہیں اس کے جواب میں بتا یا کہ زَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ خدا تعالیٰ نے اسے علمی لحاظ سے بہت فراخی عطا فر ما ئی ہے۔علم کے لفظ سے اس طرف اشارہ فر ما یاکہ دنیا میں مال علم کے ذریعہ ہی کما یا جا تا ہے اور علم اسے تم سے بہت زیا دہ حاصل ہے ورنہ بیو قوف آ دمی تو اپنے با پ دادا کی کما ئی کو بھی تبا ہ کر دیتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اسے جو علم بخشا ہے اس کے ذریعہ وہ بہت کچھ مال کما لےگا۔اسی طرح اس کی علمی بر تری کا ذکر کر کے اس طرف بھی اشارہ فر ما یا کہ صرف دولت کی وجہ سے کو ئی حکومت کا اہل نہیں ہو سکتا۔بلکہ اس کے لئے تنظیمی صلا حیتوں کی بھی ضرورت ہو تی ہے اور حکومتی اوصاف کا بھی پا یا جا نا ضروری ہو تا ہے۔اور یہ تمام با تیں اسے تم سے زیادہ حا صل ہیں۔اسے حکومت کر نے کا ڈھب بھی آ تا ہے اور سیاسیات سے بھی خوب واقف ہے۔اس لئے صرف مالی کمزوری دیکھ کر اعتراض نہ کرو۔اس کے اندر جو مخفی جو ہر ہیں وہ اپنے وقت پر ظاہر ہوںگے۔پھر جسم کے لحاظ سے بتا یا کہ تم لڑائی کر نا چا ہتے تھے۔اس کا جسم بھی خوب مضبوط ہے اور اس کی جسما نی طاقتیں اعلیٰ درجہ کی ہیں۔اس میں ہمت اور استقلال اور ثبات اور شجا عت کا مادہ پا یا جاتا ہے۔پس اس سے زیا دہ اور کون موزون ہو سکتا ہے۔یہ مراد نہیں کہ وہ موٹا تازہ ہے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ مضبوط اور دلیر ہے اور اس میں قوت برداشت اور قر بانی کا مادہ زیادہ پا یا جاتا ہے۔چنا نچہ لوگ کہا کر تے ہیں۔اَلْمَرْءُ بِاَ صْغَرَ یْہِ بِقَلْبِہٖ وَلِسَا نِہٖ (اقرب)۔یعنی انسان کی تمام طاقت اُس کی دو چھوٹی سی چیزوں پر موقوف ہے ایک دل پر اور ایک اُس کی زبان پر۔اور یہی سچے خلفاء کی علامت ہو تی ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ جب خلیفہ نہ تھے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہسے کہنے لگے کہ لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے تو جا نے دیں۔اس وقت ان سے جنگ کر نا مسلما نوں کےلئے کمزوری کا با عث ہو گا(بخاری کتاب الزکٰوة باب وجوب الزکٰوة)۔مگر جب اپنی خلا فت کا زما نہ آیا تو کتنے بڑے بڑے کام کئے۔دراصل ہمت و استقلال