تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 405

ھَلْ عَسَیْتُمْ عَسٰی بعض جگہ تو امکان کےلئے آتا ہے اور بعض جگہ تو قع کے لئے جب یہ لفظ خدا تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو امکان کی طرف اشارہ ہو تا ہے یعنی اس امر کو بعید مت سمجھو۔(مفردات) مَا لَنَا یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے۔تفسیر۔گذشتہ آ یا ت میںاللہ تعالیٰ نے بنی اسرا ئیل کا ایک واقعہ بیا ن کر کے مسلما نو ں کونصیحت کی تھی کہ تم خدا کے لئے موت قبول کر نے سے کبھی انکا ر نہ کرنا اب ایک اور واقعہ بیا ن فر ماتا ہے جو بنی اسرائیل کے سرداروں کے سا تھ تعلق رکھتا ہے کہ انہوں نے دشمن سے لڑائی کر نے کے لئے ایک با دشاہ بنا ئے جا نے کی اپنے نبی کے سا منے درخواست پیش کی اور کہا کہ دشمن کی طرف سے ہم پر متواتر ظلم کیاجا رہا ہے ہمیں اپنے مکا نوں اور جا ئیدادوں سے بے دخل کیا گیا ہے اور ہمیں اپنے بچوں سے بھی جُدا کر دیا گیا ہے۔اب ہم پر ایک با دشاہ مقرر کیاجا ئے تا کہ ہم خدا تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کریں۔یہاں مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى کے الفا ظ سے فوراً بعد مراد نہیں کیو نکہ فوراً بعد حضرت یوشع ؑ ہو ئے تھے جو نبی بھی تھے اور با دشاہ بھی (یشوع باب ۱ آیت ا تا ۴)۔اور یہ واقعہ جیسا کہ آ گے چل کر بیا ن کیا جائےگا کئی سو سال بعد ہوا۔ھَلْ عَسَیْتُمْ میں اس نبی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ اگر تم پر جنگ فرض کی گئی تو تم انکار کر دو۔چنانچہ اس نے کہا کہ تم پہلے اپنے دلوں کو ٹٹول لو ایسا نہ ہو کہ لڑائی فر ض کی جائے اور تم انکارکرکے گناہ گار بنو۔وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَ اَبْنَآىِٕنَاکے یہ معنیٰ ہیں کہ ہمیں اپنے گھروں سے بھی نکالاگیا اور اپنے بیٹوں سے بھی جدا کیاگیا۔یعنی ہما ری زمینوں اور مکا نا ت پر بھی قبضہ کر لیا گیا اور ہما رے بیٹے بھی قتل کئے گئے یا مکا نا ت کے ساتھ بیٹے بھی انہوں نے چھین لئے۔اور جب ہم نےاللہ تعالیٰ کے راستہ میں اس قدر تکالیف برداشت کی ہیں تو اب ہم لڑائی کر نے سے کیوں انکار کر یںگے؟ اِ ن الفا ظ سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ یہ کسی بعد کے زما نہ کی بات ہے۔ورنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زما نہ میں تو بنی اسرائیل کی یہ حالت تھی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ اے موسیٰ ! تُو اور تیرا ربّ دونوں جا ؤ اور دشمنوں سے لڑتے پھرو۔ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔لیکن اس مو قعہ پر انہوں نے یہ جواب نہیں دیا۔بلکہ کہا کہ ہم جہاد میں کیوں حصہ نہیں لیں گے جب کہ ہمیں اپنے گھروں سے بھی نکا لا گیا اور اپنے بچوں سے بھی علیٰحدہ کیا گیا۔اس میںکوئی شبہ نہیں کہ جب لڑائی کا وقت آ یاتو جیسا کہ اگلی آ یات سے واضح ہے ان میںسے بہت سے لوگ متزلزل ہو گئے۔مگر بہر حال انہوں نے شروع میں لڑنے