تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 397
کا شکار بنا دیتا ہے۔وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ میںبتا یاکہ بے شک تم کمزور اور بے سروسا مان ہو۔اور تمہارا دشمن بڑا تجر بہ کار اور سارے سا ما ن سے مسلح ہے مگراللہ تعالیٰ سمیع ہے وہ تمہاری دعا ؤں کو سنے گا۔اور وہ علیم ہے یعنی ان مشکلا ت کو بھی جا نتا ہے جو تمہیں پیش آ ئیں گی۔اس لئے تم اس پر بھروسہ رکھو وہ تمہار ی دعا ؤں کو سنےگا اور تمہیں دشمن کے مقا بلہ میں کامیا بی و کامرا نی عطا فرمائےگا۔مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ کیا کوئی ہے جو اللہ کو( اپنے مال کا )ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر دے تاکہ وہ اسے اس کے لئے بہت بہت بڑھائے۔اور اَضْعَافًا كَثِيْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۲۴۶ اللہ (کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ بندہ کا مال) لیتا ہے اور بڑھاتا ہے۔اور آخر تمہیں اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔حلّ لُغات۔یُقْرضُ اَقْرَضَ سے مضارع وا حد مذکر غا ئب کا صیغہ ہے اور اس کے معنے قرض دینے کے بھی ہیں اور کاٹ کر الگ کر دینے کے بھی چنا نچہ اَقْرَضَہٗ کے یہ بھی معنے ہیںکہ قَطَعَ لَہٗ قِطْعَۃً اُس کے لئے ایک ٹکڑہ کا ٹ کر الگ کر دیا۔اور یہ بھی کہ اَعْطَا ہُ قَرْ ضًا اُسے قرض دیا۔(اقرب) لسا ن العرب میں لکھا ہے۔اَلْقَرْضُ اَلْقَطْعُ وَ ھُوَ مَا اَسْلَفَہٗ مِنْ اِحْسَا نٍ اَوْمِنْ اَسَاءَ ۃٍ یعنی ہر وہ عمل جسے انسا ن اپنے آ گے بھیجے خواہ وہ نیک ہو یا بد اُسے قرض کہتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ اس سے مراد مال ہی ہو۔چنانچہ اُمیّہ کا شعر ہے؎ کُلُّ امْرِيٍ سَوْفَ یُجْزٰی قَرْضَہٗ حَسَنًا اَوْسَیِّئًا مَدِ یْنًا مِثْلَ مَا دَانَ یعنی ہر شخص کو اس کے قرض کا بدلہ ملے گا خواہ وہ اچھا ہویا برا اور وہ اپنے کئے کی جزاء پا ئےگا۔اَلْقَرْضُ کُلُّ اَمْرٍیُتَجَا زٰی بِہٖ مِنَ النَّاسِ۔ہر ایسا فعل جس کا انسا ن کو بدلہ دیا جائے قرض کہلاتا ہے قَرَضْتُہٗکے معنے ہیںجَا زَیْتُہٗ میں نے اُسے بدلہ دیا۔تَقُوْ لُ الْعَرَبُ لَکَ عِنْدِیْ قَرَضٌ حَسَنٌ وَ قَرَضٌ سَیِّیءٌ۔عرب کہتے ہیں کہ تیرا میرے ساتھ اچھا معا ملہ ہے، میں نے اس کا بدلہ دینا ہے۔اسی طرح یہ بھی کہتے ہیں