تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 398
کہ تیرا معا ملہ میرے ساتھ برُا ہے میںنے اس کا بدلہ دینا ہے۔وَاَصْلُ الْقَرْضِ مَایُعْطِیْہِ الرَّ جُلُ اَوْ یَفْعَلُہٗ لِیُجَا زٰی عَلَیْہِ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَقْرِضُ مِنْ عِوَضٍ وَلٰکِنَّہٗ یَبْلُوْ عِبَا دَہٗ۔اصل قرض یہ ہے کہ انسان کسی کو کوئی چیز دے یا ایسا کام کرے جس کا اُسے بدلہ دیا جا ئے۔کہتے ہیں خدا تعالیٰ عوض کے بدلہ میں نہیں لیتا بلکہ وہ اپنے بندوں کی آ زما ئش کر تا ہے۔لبید کہتا ہے؎ وَاِذَا جُوْ زِیْتَ قَرْضًا فَاَ جْزِہٖ اِنَّمَا یُجْزَی الْفَتٰی لَیْسَ الْجَمَلٗ کہ جب تجھے قر ض دیا جا ئے تو تُو اس کا بدلہ دے۔کیو نکہ بہا در آ دمی ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔اونٹ نہیں دیا کرتے۔یعنی تُو ایسا نہ بن کہ لو گ تجھ سے معا ملہ کر یں تو تُو اُن سے اچھا معا ملہ نہ کرے۔اِ سی طرح کہتے ہیں اَلْقَرْضُ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی مَنْ یُّقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا اِسْمٌ لَیْسَ بِمَصْدَرٍ وَلَوْ کَانَ مَصْدَرًا لَکَانَ اِقْرَاضًا وَلٰکِنَّ الْقَرْضَ کُلُّ مَایُلْتَمَسُ عَلَیْہِ الْجَزَآءُ کہ قر ض کا لفظ اِس آ یت میں اسم ہے نہ کہ مصدر۔اگر مصدرہو تا تو اِقْرَاض ہو نا چا ہیے تھا۔مگر یہا ں قَرْض ہے۔جس کے معنے ہیں ہر وہ چیز جس پر انسان بدلہ چا ہے۔اخفش کہتا ہے یُقْرِضُ اللّٰہَ یَفْعَلُ فِعْلًا حَسَنًا فِیْ اِتِّبَاعِ اَمْرِہٖ یُقَالُ لِکُلِّ مَنْ فَعَلَ اِلَیْہِ خَیْرًا لَقَدْ اَحْسَنْتَ قَرْضِیْ کہ یہ محا ورہ ہے کہ جس آ دمی سے اچھا سلوک کیا جا ئے۔وہ کہتا ہے تو نے مجھے اچھا قر ض دیاہے یعنی اچھا معا ملہ کیا ہے یا یوں کہتے ہیں کہ لَقَدْ اَقْرَ ضْتَنِیْ قَرْ ضًا حَسَنًا اَیْ اَدَّیْتَ اِلَيَّ خَیْرًا تو نے مجھے قرضہ حسنہ دیا ہے۔یعنی میرے سا تھ بڑی نیکی کی ہے۔ان معنوں کی رُو سے زیر تفسیر آ یت کا مفہوم یہ ہو گا کہ (۱) کون ہے جواللہ تعالیٰ کے احکا م کی اطا عت کرے ایسی صورت میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اُس کی جزاء کی اُ مید رکھے۔(۲) کون ہے جو اپنے ما ل کا ایک حصہ کا ٹ کراللہ تعالیٰ کی راہ میں دے۔گو یا دونوں معنوں کی رو سے غرض یہ ہو گی کہ خدا تعالیٰ کی اتباع کر ے اور اپنے ما ل کا ایک حصہ کا ٹ کر اس کی راہ میں خر چ کرے۔اَضْعَا فٌ ضِعْفٌ کی جمع ہے۔اور ضِعْفٌ کے معنے عربی زبا ن میں کئی ہیں۔(۱)محض بڑھا دینا۔(۲) جتنی چیز ہو اتنی ہی اور بڑ ھا دینا یعنی دوگنا کر دینا۔(۳) کہتے ہیں کہ یہ کم از کم افزائش ہے بڑی حد مقرر نہیں کی جا سکتی خوا ہ اُسے کروڑ گنا بڑھا دیا جا ئے(اقرب)۔کروڑ گنا بھی اضعاف میں داخل ہے۔یہ جملہ ہے تو سوا لیہ مگر تحریص کا فا ئدہ دیتا ہے۔اس کی اصل عبا رت یوں ہو گی اَیُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا فَیُضَا عِفَہٗ لَہٗ یا ھَلْ مِنْ