تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 33
جماعت قائم کی جاتی جو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ رہنے والی ہو۔اور اگر کَمَا بمعنے لِمَا ہو تو اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے یہ حکم تمہیں اس لئے دیا ہے کہ ہم نے تم میں ایک رسول بھیجا ہے جو تمہیں میں سے ہے اور اس کا کام یہ ہے کہ وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور اس طرح تم کو پاک کرتا اور مدارج عالیہ کی طرف بڑھاتا ہے اور تم کو شریعت سکھاتا ہے اور پھر وہ احکام شریعت کی باریک در باریک حکمتوں اور پوشیدہ اسرار سے واقف کرتا ہے۔اور صرف وہی تعلیم نہیں دیتا جو پہلے صحیفوں میں پائی جاتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایسی تعلیم دیتا ہے جو تم لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھی۔پس تم لوگ میرا ذکر کرو تاکہ میں بھی تمہیں اپنے دربار میں جگہ دوں اور میرے انعامات پرجو اس رسول کے ذریعے تم پر کئے گئے ہیں شکر بجا لاتے رہو اور میری ناشکری نہ کرو۔یوں تو دنیا کے تمام مذاہب کی ابتداء انبیاء ؑ کی ذات سے ہی ہوئی ہے لیکن کوئی مذہب بھی ایسا نہیں جس نے ایسے نبی کو پیش کیا ہو جو تمام امور دینیہ کی حکمتوں کو بیان کرنے کا مدعی ہو اور جسے تمام بنی نوع انسان کےلئے اُسوئہ حسنہ کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔عیسائیت جو سب سے قریب کا مذہب ہے۔وہ تو مسیح کو ابن اللہ قرار دے کر اِس قابل ہی نہیں چھوڑتی کہ اُس کے نقش قدم پر کوئی انسان چلے کیونکہ انسان خدا جیسا نہیں ہو سکتا۔باقی رہے حضرت موسیٰ علیہ السلام سو تورات انہیں اسوۂ حسنہ کے طور پر پیش نہیں کرتی۔نہ تورات اور انجیل حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو مذہبی حکمتوں کے بیان کرنے کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔لیکن قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔کہ یہ نبی تمہیںاحکام الٰہیہ اور اس کی حکمتیں بتاتا ہے۔پس اسلام ممتاز ہے اس بات میں کہ اس کا نبی دنیا کے لئے اسوۂ حسنہ بھی ہے اور جبرسے اپنے احکام نہیں منواتا بلکہ جب کوئی حکم دیتا ہے تو اپنے اتباع کے ایمانوں کو مضبوط کرنے اور اُن کے جوش کو زیادہ کرنے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ اُس نے جو احکام دئیے ہیں اُن کے اندر ملت افراد ملت اور باقی نوع انسان کے لئے کیا کیا فوائد مخفی ہیں۔یہ وہی دعائے ابراہیمی ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔مگر اس میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعامیں دو فرق ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا چاہیے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے الفاظ یہ تھے کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (البقرۃ : ۱۳۰)یعنی اے خدا ! تو ان میں انہی سے ایک رسول بھیج جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے۔انہیں کتاب کی تعلیم دے ان پر احکام الٰہیہ کی حکمت