تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 32
رہے۔اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کر وں اور تاکہ تم ہدایت پاؤ۔سورۃ فتح اور اِن آیات کے تقابل سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے اور دونوں میں فتح مکہ پر زور دینا اور اُس کے فوائد کو بیان کرنا مقصود ہے۔كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ (اُسی طرح) جس طرح ہم نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے۔يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ۰۰۱۵۲ جو تم (پہلے) نہیں جانتے تھے۔حل لغات۔کَمَا کے ایک معنے تو وہ ہیں جو عام طور پر کئے جاتے ہیں۔یعنی ’’جیسا کہ ‘‘ یہ مشابہت کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے ایک دوسرے معنی لِمَا کے بھی ہیں یعنی ’’اس لئے ‘‘ (بحرمحیط) جیسے ایک شاعر کہتا ہے ع لَا تَشْتُمِ النَّاسَ کَمَا لَا تُشْتَمْ یعنی تو لوگوں کو گالی نہ دے اس لئے کہ وہ تجھ کو گالی نہ دیں۔تفسیر۔کَمَا کے معنے اگر ’’جیسا کہ‘‘کے سمجھے جائیں تو اس آیت کے یہ معنے بنتے ہیں کہ جس نعمت کا پیچھے ذکر ہوا ہے اُس کا ہم تم پر ویسے ہی اتمام کریں گے جیسا کہ ہم نے تم میںاپنے اس رسول کو جو دعائے ابراہیمی کا موعود ہے بھیج کر اپنے احسان کو مکمل کیا ہے۔درحقیقت ابراہیمی دعا کے دو حصے تھے۔ایک حصہ تو اُن میں رسول بھیجنے کے ساتھ تعلق رکھتا تھا اور دوسرا حصہ ایک پاکیزہ اور مقدس جماعت تیار کرنے کے متعلق تھا۔ورنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ مطلب نہ تھا کہ رسول تو آجائے مگر قوم بے شک گمراہ ہی رہے یا رسول تو آجائے مگر قوم کو تقدیس حاصل نہ ہو۔پس ضروری تھا کہ ابراہیمی دعا کو پورا کرنے کے لئےجہاں رسول بھیجا گیا وہاں دعا کے دوسرے حصوں کو بھی پورا کیا جاتا اور ایک ایسی پاکیزہ