تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 347

افضل قول یہی ہے۔لیکن محتاط امام مالکؒ کافتویٰ ہے امام شافعی ؒ اورامام احمد بن حنبل ؒ کے نزدیک چار ماہ گذرنے پراگر کوئی شخص رجوع نہ کرے تواسے قاضی مجبورکرے گا کہ رجوع کرے یاطلاق دے۔یہ بھی قریباً امام مالکؒ کے قول سے ملتا ہے اگر مرد دونوں باتوںسے کوئی بھی نہ کرے گا۔تو قاضی اس کی طرف سے طلاق دلا دے گا (کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعة ، شرعی حدود متعلقہ احکام ایلاء)۔امام نخعی ؒ کا قول ہے کہ یہ رجوع پوشیدہ جائز نہیں نہ اشارہ سے بلکہ قول سے ہونا چاہیے۔اور گواہوں کی موجودگی اس کے لئے ضروری ہے (کشّاف زیر آیت ھذا)۔غرض قرآن کریم عورت کو کَالْمُعَلّقَۃ چھوڑنے سے منع کرتا ہے۔اور جو چھوڑے اسے مجبور کرتا ہے کہ یا صلح کرے یا اسے طلاق دے دے۔غَفُوْرٌ کے لفظ سے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ بغیر کسی جائز عذر کے اس قسم کی قسم کھانا اور عورت کو دق کرنا گناہ کی بات ہے۔تمہیں ایسے فعل سے توبہ کرنی چاہیے اور عورت کودق نہیں کرنا چاہیے۔وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ میں بتایا کہ اگرمرد طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لیں تو اﷲبھی سننے والا اور جاننے وا لا ہے۔سَمِيْعٌکے لفظ سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنی بیوی سے نا انصا فی کر ےگا تو اسے یا د رکھنا چا ہیے کہ وہ اس کے بدنتائج سے بچ نہیں سکتاکیونکہ اللہ تعالیٰ اُس کی بیو ی کی فر یا د کو سننے وا لا ہے۔اورعَلِيْمٌ میں بتا یا کہ جو خیالا ت تمہارے دلو ں کے اندر ہیںاللہ تعالیٰ ان کو بھی خو ب جا نتا ہے اور انہی کے مطابق تم سے معا ملہ کر ےگااس لئے تم اپنے معاملات میں ہو شیا ر رہو۔تم دنیا کو تو دھوکا دے سکتے ہو مگر خدا تعالیٰ کو نہیں۔چو نکہ اس جگہ عو رت سے حسن سلو ک کو حکم دیا ہے۔اس لئے اگر کو ئی شخص قسم کھا لیتا ہے کہ میں اپنی بیوی سے حسن سلوک نہیں کر وںگا تو یہ قسم بھی اس پہلی قسم ہی کی طرح ہو گی جس کا ذکر لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ۠ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا میں کیا گیا ہے۔وَ الْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا اور جن عورتوں کو طلاق مل جائے وہ تین (بار) حیض (آنے) تک اپنےآپ کو روکے رکھیں۔اور اگر انہیں اللہ (پر) اور يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ روز آخرت پر ایمان ہے تو (انہیں معلوم رہے کہ) جو کچھ اللہ (تعالیٰ )نے ان کے رحموں میں پیدا کر رکھا ہے ان