تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 346

سورج کے ساتھ ادھر سے اُدھر ہوتا رہتا ہے ان دونوں معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فَاءَ بالعموم اچھے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے۔تفسیر۔ایلاء کے معنے قسم کے ہیں لیکن اصطلاحی طور پر کسی شخص کا قسم کھا کر اپنی بیوی سے علیٰحدگی اختیار کر لینا ایلاء کہلاتا ہے۔عرب میں یہ رواج تھا کہ بعض لوگ اپنی بیویوں کو طلاق تو نہ دیتے لیکن قسم کھا لیتے تھے کہ ہم ان سے تعلق نہیں رکھیں گے اور اس قسم کے ذریعہ وہ اپنے خیال میں بیوی کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں سے آزاد ہو جاتے تھے۔کیونکہ ان کے خیال میں قسم کو پورا کرنے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد ہوتی ہے اور بندوں کی ذمہ داری سے مقدم ہے۔پس جب کہ خدا تعالیٰ کی قسم روک بن گئی تو ان کے خیال کے مطابق عورت کے حقوق کا ادا نہ کرنا کوئی گناہ نہ رہا۔یہ گندہ خیال اب بھی دنیا میں موجود ہے۔بلکہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم بیویوں سے تعلق نہیں رکھیں گے۔لیکن انہیںطلاق بھی نہیں دیتے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا کر بیٹھے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اسے چار مہینے کی مہلت دی جاتی ہے اس عرصہ میں وہ صلح کرلے توبہتر ورنہ جیساکہ اگلی آیت میں ہے پھر قاضی طلاق کافیصلہ کردےگا۔اس آ یت میں اﷲ تعالیٰ نے عورت کو معلّقہ چھوڑنے کے خلاف فیصلہ فرمایا ہے۔مر د زیادہ سے زیادہ مدت نکاح میںچار ماہ تک کے لئے عورت سے علیحدہ رہنے کا عہد کر سکتا ہے اور اگر کوئی شخص چار ما ہ سے زائدعرصہ کے لئے زائدعرصہ کے لئے قسم کھائے تو عورت کاحق ہے کہ خلع کرا لے۔ایسی صورت میںطلاق واقعہ نہیں ہوتی۔کیونکہ اس کا حکم آگے مذکور ہے۔لیکن عورت کوخلع کاحق حاصل ہوجاتا ہے۔اور اگر کوئی شخص تھوڑی تھوڑی مدت کے لئے ایلاء کرے مثلاً دس دن کےلئے ایلاء کیا اورپھر رجوع کیا۔پھر دس دن کے لئے نیا ایلاء کیااور پھر رجوع کر لیا تب بھی اس کے لئے مجموعی طور پر چارماہ کی ہی مدت مقرر ہے۔اگروہ چار ماہ کے بعد ایلاء کرےگا۔تووہ ایلاء ناجائز ہو گا اورعورت علیحدگی کی حقدارہو گی۔بعض لوگ عورت کودکھ دینے کے لئے تھوڑی تھوڑی مدت مقررکرتے رہتے ہیں تاکہ نہ چار ماہ ختم ہوں اور نہ عورت علیحدہ ہومگر ان کایہ خیال غلط ہے اس قسم کی ایلاء کی مدت بھی صرف چار ماہ ہی ہے۔جب ایام قطع تعلق کا مجموعہ چار ماہ ہو جائے گا۔تو لازماً عورت علیحدگی کی حق دارہو گی۔فقہاء کااس آیت کے احکام کی تفصیلات میں اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اگر مدت گزر جائے اور مرد عورت سے نہ مباشرت کرے اور نہ زبان سے رجوع کرے تو قاضی دونوں میں علیحدگی کروادےگا۔یہ امام مالک کا قول ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ ؒکہتے ہیں کہ چار ماہ کے ختم ہونے سے پہلے رجوع ضروری ہے۔اگر چار ماہ کے اندر رجوع نہ کرے تو اس مدت کے گزرنے کے بعد عورت کو خود بخود طلاق ہو جائے گی۔