تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 344

مگر یہ صحیح نہیں۔یہا ں پر ایک تو مؤاخذہ کی نفی کی ہے اور دوسر ے لغو قسموں سے پر ہیز کی تا کید کی ہے۔وَلٰکِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَاکَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ میں گذشۃ تینو ں قسموں کی نفی کر دی گئی ہے کیو نکہ قسم عا دتاً ہو یا غصّہ اور بے احتیا طی سے ہو ان میں سے کو ئی قسم بھی عمداً نہیں ہو تی بلکہ بعض وقت تو انسا ن کو پتہ بھی نہیں لگتا اور وہ قسم کھا جا تا ہے۔پس کسب قلب سے مرا د یہی ہے کہ عمداً قسم کھا ئی جا ئے۔ایک و ا قعہ کے متعلق وہ سمجھتا ہوکہ یو ں ہے مگر پھر اس کے خلا ف قسم کھا جا ئے۔ایسی قسم کا کفارہ اللہ تعالیٰ نے سو رہ ما ئدہ میں اِ ن الفا ظ میں بیا ن فر ما یا ہے کہ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ(الما ئد ۃ: ۹۰) یعنی قسم تو ڑنے کا کفا رہ دس مسا کین کو متوسط درجہ کا کھا نا کھلا نا ہے۔ایسا کھا نا جو تم اپنے گھر وا لو ں کو کھلا تے ہو۔یا اُ ن کے لئے لبا س مہیا کر نا ہے۔یا ایک غلا م کو آ زاد کر نا ہے۔لیکن جسے اس با ت کی تو فیق نہ ہو اُس پر تین دن کے روزے وا جب ہیں۔یہ تمہا ری قسمو ں کا کفا رہ ہے جبکہ تم قسم کھانے کےبعد انہیں تو ڑ دو۔یہا ں ایک سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ آ یا قر آن کر یم کی قسم کھا نا جا ئز ہے یا نہیں؟ اس کا جوا ب یہ ہے کہ اگر ملکی رواج کو مدّ نظر رکھ کر قر آ ن کر یم کی قسم کھا ئی جائے تو میر ے نزدیک جا ئز ہے۔کیو نکہ مدّ مقا بل پر قر آ ن کر یم کی قسم کھا نے سے غیر معمو لی اثر پڑ تا ہے۔يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ سے یہ بھی معلو م ہو تا ہے کہ جس شخص کے دل میں بد اخلاقی کے خیا لا ت آ تے ہیں۔مثلاً اپنے بھائی کی نسبت بد ظنّی کا خیال پیدا ہو تا ہے۔یا تکبّر یا حسد یا نفرت کا جذبہ پیدا ہو تا ہے لیکن وہ اس خیال کو دبا لیتا ہے تو اس کا یہ خیا ل یا جذبہ بد اخلا قی نہیں سمجھا جا ئےگا کیو نکہ ایسا شخص درحقیقت بد اخلا قی کا مقا بلہ کر تا ہے اور تعر یف کا مستحق ہے، اسی طر ح جس شخص کے دل میں ایک آ نی خیا ل نیکی کا آ ئے یا آ نی طو ر پر حسن سلو ک کی طر ف اس کی طبیعت ما ئل ہو لیکن وہ اس کو بڑھنے نہ دے تو ایسا شخص بھی صا حب اخلا ق نہیں سمجھا جائےگا گو اُس کے اِ س وقتی جذبہ کو بھی قا بلِ تعر یف قر ار دیا جا ئےگا کیو نکہ اخلا ق وہ ہیں جو انسا ن کے ارادہ کا نتیجہ ہوں لیکن مذکو رہ با لا دونوں صورتوں میں اچھے یا بُر ے خیا لا ت ارادہ کا نتیجہ نہیں ہو تے بلکہ بیرونی اثر ات کے نتیجہ میں بلا ارادہ پیدا ہو جا تے اور اُسی وقت زا ئل ہو جاتے ہیں۔اس نکتہ کو قر آ ن کر یم نے اِن الفا ظ میں بیا ن فر ما یا ہے کہ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ۔اللہ تعالیٰ تم کو صرف ان خیالات پر پکڑے گا جو ارادہ اور فکر کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں نہ ان پر جو اچانک پیدا ہو جاتے ہیں اور تم ان کو فوراً اپنے دل سے نکال دیتے ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم اس کی تشریح یوں