تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 345

فرماتے ہیں کہ اچانک بد خیال پیدا ہونے پر جو شخص اس خیال کو اپنے دل سے نکال دیتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا ایسا شخص نیکی کا کام کرتا ہے۔اور اجر کا مستحق ہے آپ فرما تے ہیں وَ مَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَاکَتَبَھَا اللّٰہُ عِنْدَہٗ حَسَنَۃً کَامِلَۃً (بخاری کتاب الرقاق باب من ھمّ بحسنۃ و بسیّئۃ)اگر کسی شخص کے دل میں بُرا خیال پیدا ہو اور وہ اس کو دبا لے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ایک پوری نیکی لکھے گا۔یعنی بدخیال کے دبانے کی وجہ سے اس کو نیک بدلہ ملے گا۔وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ میں غفور کے لفظ سے بتا دیا کہ اگر تم ایسی قسموں سے اجتناب کروگے اور توبہ کروگے توہم تمہیںبخش دیں گے۔اور حلیم کہہ کر اس طرف توجہ دلائی کہ ہم نے لغو قسموں پر اس لئے گرفت نہیں کی کہ اگر ہم ان قسموں پر گرفت کرنا شروع کر دیں تو تمہارا بچنا مشکل ہو جائے۔لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ ١ۚ جو لوگ اپنی بیویوںکے متعلق قسم کھا( کر ان سے علیٰحدگی اختیار کر) لیتے ہیں۔ان کے لئے (صرف) چار مہینےتک فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۲۲۷وَ اِنْ عَزَمُوا انتظار کرنا (جائز) ہے۔پھر اگر (اس عرصہ میں صلح کے خیال کی طرف) لوٹ آئیں تو اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور) الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۰۰۲۲۸ بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کرلیں۔تو اللہ بہت سننے والا (اور) بہت جاننے والا ہے۔حلّ لُغات۔<mark><mark>اِیْلَاء</mark>ٌ</mark> اٰلٰی یُؤْلِیْ <mark>اِیْلَاء</mark>ً قسم کھانا۔یہ اَلَاسے نکلا ہے جس کے معنے کسی کام میں کمی یا تاخیر کرنے کے ہیں۔اور <mark><mark>اِیْلَاء</mark>ٌ</mark> قرآن کریم کے محاورہ میں اُس قسم کو کہتے ہیں جو اس بات پر کھائی جائے کہ مرد اپنی بیوی سے کوئی تعلق نہ رکھے گا (مفردات) چونکہ اس قسم میں عورت کے حق کا اتلاف ہے اس لئے اسے <mark>اِیْلَاء</mark> کہا گیا۔فَآءُ وْا فَاءَ یَفِیْ ءُ فَیْئًا لوٹ آیا۔فَاءَ الْاَمْرَ اَیْ رَجَعَ اِلَیْہِ (اقرب) اس بات کی طرف لوٹ آیا۔فَاءَ کالفظ نیک امور کی طرف لوٹنے کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔(مفردات) اصل میں اس کے معنے تعاون اور امداد باہمی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ہوتے ہیں۔اور سایہ کو بھی فَيْء کہتے ہیںکیونکہ وہ