تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 338
نہیں بن سکتے لیکن تم بیما ر کا علاج کر کے حیّ کی نقل تو کر سکتے ہو۔تم مُمِیْت نہیں بن سکتے لیکن تم بدی کا خا تمہ کر کے ممیت کی نقل تو کر سکتے ہو تم خا لق نہیں بن سکتے لیکن تم اچھی اولا د پیدا کر کے خالق کی نقل تو کر سکتے ہو۔پس فرمایا اگر تم میری محبت حا صل کر نا چا ہتے ہو تو تم میر ی نقل کر نا شر و ع کر دو اور میر ی صفا ت کو اپنے اند ر پیدا کر و اس کے نتیجہ میں تم سے محبت کر نے لگ جا ؤںگا۔نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١ٞ وَ تمہاری بیویاں تمہارے لئے( ایک قسم کی )کھیتی ہیں۔اس لئے تم جس طرح چاہو اپنی کھیتی کے پاس آؤ۔قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ اور اپنے لئے (کچھ )آگے بھیجو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ تم اس کے روبرو ہونے والے ہو۔بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۲۲۴ اور تو مومنوں کو( اس دن کے بارے میں) خوشخبری دے۔حلّ لُغا ت۔اَنّٰی کے معنے اَ یْنَ، مِنْ اَ یْنَ اور کَیْفَ کے ہیں۔یعنی ’’جہا ں‘‘۔’’جہا ںسے‘‘۔’’جب‘‘ اور ’’ جس طرح‘‘ (اقر ب) تفسیر۔اِس آ یت میں عو رت کو کھیتی قر ا ر دے کراللہ تعالیٰ نے بنی نو ع انسان کو اس امر کی طر ف تو جہ دلا ئی ہے کہ(۱) تم اپنی کھیتی کو پھل دار بنا نے کی کو شش کرو۔اِسی کی طر ف رسو ل کر یم صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حد یث بھی اشا رہ فر ما تی ہے کہ تَزَوَّجُواالْوَلُوْدَ الْوُدُوْدَ فَاِنِّیْ مُکَا ثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ(ابو داؤد کتاب النکاح باب النّھی عن تزویج من لم یلد من النساءو نسائی کتا ب النکاح باب کراھیة التزویج العقیم) یعنی تم ایسی عورتوں کے سا تھ شا دی کیا کر و جو زیادہ اولا د پیدا کر نے وا لی اور اپنے خا وندوں کے ساتھ محبت کر نے والی ہو ں۔کیو نکہ میں دوسر ے نبیو ں کی اُمتو ں کے مقا بل پر اپنی امّت کی کثر ت پر قیا مت کے دن فخر کر وںگا۔(۲)عو رتو ں سے ایسا سلو ک کر و کہ نہ اُ ن کی طا قت ضائع ہو۔اور نہ تمہا ری۔اگر کھیتی میں بیج زیا دہ ڈال دیا جائے توبیج خر اب ہو جا تا ہے۔اور اگر کھیتی سے پے در پے کا م لیا جا ئے تو کھیتی خر ا ب ہو جا تی ہے۔پس ہرکا م ایک حد