تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 339

کے اندر کر و۔جس طر ح عقلمند انسا ن سو چ سمجھ کر کھیتی سے کا م لیتا ہے۔اس آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ بعض حا لا ت میں بر تھ کنٹرول بھی جا ئز ہے۔چنا نچہ کھیتی میں سے اگر ایک فصل کاٹ کر معاً دوسری بو دی جا ئے تو دوسر ی فصل اچھی نہیں ہو تی۔اور تیسری اس سے بھی زیا دہ خراب ہو تی ہے۔اسلا م نے اولا د پیدا کر نے سے روکا نہیں بلکہ خو د فر ما یا ہے کہ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ تم اپنی عو رتو ں کے پا س اِس لئے جا ؤ کہ آ گے نسل چلے اور تمہا ری یا دگار قا ئم رہے لیکن ساتھ ہی بتا دیا کہ کھیتی کے متعلق خداتعا لیٰ کے جس قا نو ن کی تم پابندی کر تے ہو اسی کو اولاد پیدا کر نے میں بھی مّد نظر رکھو۔اگر عو ر ت کی صحت مخدو ش ہو یا بچہ کی پر ورش اچھی طر ح نہ ہوتی ہو تو اس وقت اولاد پیدا کر نے کے فعل کو روک دو۔(۳)یہ بھی بتایا کہ عو رت سے ایسا تعلق رکھو جس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہو۔اس سے خلافِ وضع فطرت فعل کی مما نعت نکل آ ئی۔چو نکہ قر آ ن کر یم خدا تعالیٰ کا کلا م ہے اس لئے وہ با ت کو اُسی حد تک ننگا کر تا ہے جس حد تک اخلا ق کو کوئی نقصا ن نہ پہنچتا ہو۔لو گ اَنّٰى شِئْتُمْ سے غلط استدلا ل کر تے ہیں۔حا لا نکہ یہ الفا ظ کہہ کر تو خدا تعالیٰ نے ڈرا یا ہے کہ یہ تمہا ری کھیتی ہے اب جس طر ح چاہوسلو ک کر و۔لیکن یہ نصیحت یادرکھو کہ اپنے لئے بھلائی کا سا ما ن ہی پیدا کر نا۔ورنہ اس کا خمیا زہ بھگتو گے۔لوگ جب اپنی لڑ کیو ں کی شا دی کر تے ہیں تو لڑ کے وا لو ں سے عمو ماً کہا کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی تمہیں دےدی ہے۔اب جیسا چا ہو اِس سے سلوک کرو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ تم بے شک اِسے جوتیاں مارا کرو۔بلکہ مطلب یہ ہوتاہے کہ یہ تمہاری چیز ہے اسےسنبھا ل کر رکھنا۔پس اَنّٰى شِئْتُمْ کا مطلب یہ ہے کہ عورت تمہاری چیز ہے اگر خراب سلوک کرو گے تو اس کا نتیجہ تمہارے لئے بھی برا ہوگا اور اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا ہو گا۔مگر لوگوں نے بیو قوفی سے اَنّٰى شِئْتُمْ کا یہ مطلبلے لیا کہ’’اَنھے واہ‘‘ یعنی اندھا دھند کرو۔آ ریوں نے خصو صیت سے اس آ یت پر اعتر ا ض کیا ہے کہ اسلا م نے مر دوعو رت کے تعلقات کے بارہ میں اپنے متبعین کو غیر فطری طر یق اختیا ر کر نے کی اجا زت دی ہے (ستیارتھ پرکاش مترجم باب ۱۴ اعتراض ۳۸ زیر آیت ھٰذا) حالانکہ ان کا یہ خیا ل با لکل غلط ہے۔اَنّٰى شِئْتُمْ کے یہ معنے نہیں کہ اب خلا ف وضع فطر ی فعل بھی تمہارے لئے جا ئز ہو گیا ہے۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تمہا ری بیویاں تمہارے لئے کھیتی کی حیثیت رکھتی ہیں تو اب تمہا را اختیا ر ہے کہ تم جس طر ح چاہو اُن سے سلو ک کر و۔یعنی چا ہو تو اپنی کھیتی کو تباہ کر لو اور چا ہو تو اس سے ایسے فو ائد حا صل کرو جن سے دنیا میں بھی تم نیک نامی حا صل کر و اور آ خر ت میں بھی اپنی روح کو خوش کر سکو۔دنیا میں کو ئی احمق زمیندار ہی ہوگا جو نا قص بیج استعما ل کر ے یا بیج ڈا لنے کے بعد کھیتی کی نگرا نی نہ کر ے۔اوراچھی فصل حا صل کر نے کی کو شش نہ کر ے مگر عو رتو ں کے معا ملہ میں با لعمو م اس اصو ل کو نظر اندا ز کر دیا جا تا ہے اور