تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 334
یہ معنے نہیں کہ قانون قدرت کو توڑ کر خدا تعالیٰ کوئی کام کرتا ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے خاص حکم سے اس کام کو سرانجام دینے کے سامان مہیّا فرماتا ہے۔قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔آخر میں يُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ ہم نے قانونِ نکاح تمہارے سا منے بیا ن کر دیا ہے۔اب تمہا راکام یہ ہے کہ تم اِس قانو ن کو مدّنظررکھو اور جنگ میں بھی جبکہ دشمن کی عدا و ت انسا ن کو نا بینا کر دیتی ہے اللہ تعالیٰ کی ہد ا یت کے ما تحت چلنے کی کو شش کرو۔وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى ١ۙ فَاعْتَزِلُوا اور یہ لوگ تجھ سے حیض کے( ایام میں عورت کے پاس جانے کے) بارہ میں( بھی) سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ النِّسَآءَ فِي الْمَحِيْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا وہ ایک ضرر رساں( امر) ہے اس لئے تم عورتوں سے حیض (کے دنوں) میں علیٰحدہ رہو۔اور جب تک وہ پاک تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ (وصاف) نہ ہو لیں ان کے پاس نہ جاؤ۔پھر جب وہ نہا کرپاک ہو جائیں۔تو جد ھر سے اللہ( تعالیٰ) نے تمہیں حکم يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ۰۰۲۲۳ دیا ہے۔ان کے پاس آؤ۔اللہ ان سے جو اس کی طرف بار بار رجوع کرتے ہیں یقیناً محبت کرتا اور( ظاہری و باطنی) صفائی رکھنے والوں سے بھی یقیناً محبت کرتا ہے۔حل لغا ت۔اَلْمَحِیْضُ اَلْحَیْضُ وَوَقْتُ ا لْحَیْضِ وَمَوْضِعُہٗ۔اَلمَحِیْضُ کے معنے(۱) حیض (۲) ایا م حیض اور (۳)حیض کی جگہ کے ہیں۔(مفردات) اَذًیاَ لْاَذٰی مَا یَصِلُ اِلَی الْحَیَوَا نِ مِنَ الضَّرَ رِ۔اَذٰی کے معنے ہر ایسے ضر ر کے ہیں جو کسی ذی روح کو پہنچے۔وَ قَوْلُہٗ یَسْئَلُوْ نَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَاَذًی فَسُمِّیَ ذٰ لِکَ اَ ذًی بِاِعْتِبَا رِ الشَّرْ عِ وَبِاِعْتِبَارِ الطِّبِّ عَلٰی حَسْبِ مَا یَذْکُرُہٗ اَصْحَا بُ ھٰذِہِ الصَّنَاعَۃِ۔اور قر آ ن کریم کی آ یت میں اسے اَذًی ایک تو شر عی