تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 333

تَزَوَّجَھَا اس نے عورت سے شادی کر لی۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔مشرک عو ر تو ںسے اُس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں۔یعنی اگر جنگ میں مشرک عورتیں آئیںتو تم اُن سے نکاح نہ کرو۔ہاں !اگر وہ ایمان لے آئیںتو پھر بے شک اُن سے نکاح کر سکتے ہو۔یہ حکم بھی جنگ کے احکام کے سلسلہ میں ہی دیا گیا ہے کیونکہ ایام جنگ میں مسلمان اپنے گھروںسے بہت دور ہوتے ہیں۔اور ہو سکتا ہے کہ اُن میں سے کسی کو مشرکہ عورت سے شادی کرنے کا خیال آجائے۔وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ میں مومن لونڈی کو حُرّہ مشرکہ سے اچھا ٹھہرایا ہے۔کیونکہ مومنہ کاتوصرف جسم ہی غلامی میں ہوتا ہے مگرحُرّہ مشرکہ کی رُوح شیطان کی غلامی میں ہوتی ہے۔اور جسم کی غلامی رُوح کی غلامی کے مُقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی۔اِسی طرح حکم دیاکہ مومن عورتیں مشرکوں کے نکاح میں نہ دویہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔پھر فرماتا ہے کہ ہم نے یہ حکم اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں۔یعنی جب مشرکہ عورت مسلمان کے گھر میں آئےگی یا مسلمان عورت مشرک سے بیاہی جائےگی تو چونکہ میاں بیوی کے تعلقات کاایک دوسرے پرگہرا اثر ہوتا ہے اس لئے اُن کے یہ تعلقات انہیںدین سے منحرف کرنے والے ثابت ہوںگے۔پس مشرک عورتوں یا مردوں سے تعلقات پیدا نہ کرو ورنہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ تمہیںخدائے واحد سے منحرف کرنے کی کوشش کریں گے اور اس طرح تمہیںجہنّم کی طرف لے جائیں گے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہیںجنّت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔جنّت وہ جگہ ہے جہاںدلوںمیں سے ہرقسم کا کینہ نکل جائے گا۔مگرمشرک مرد اورمومن عورت یا مشرک عورت اورمومن مرد کبھی ایک نکتہ پر متحد نہیںہو سکتےکیونکہ توحیداور شرک دونوں میں بُعدالمشرقین ہے۔اور جب ان میں مذہبی عقائد اور تمدّن اور تہذیب کے لحاظ سے اتحاد ہی نہیں ہو گا۔تو اُن کی اہلی زندگی خوشگوار کس طرح ہو سکتی ہے؟ یہ امریاد رکھنا چاہیے کہ شرعی اصطلاح میں مشرک سے مرادصرف وہ لوگ ہیں جن کی کوئی شریعت نہ ہو۔اہِل کتاب اس حکم میں شامل نہیں ہیں۔بِاِذْنِهٖ کا لفظ جو اس جگہ بڑھایا گیا ہے ہمیشہ ایسی صورت میں استعمال ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے اپنی طرف سے سامان پیدا کرے۔خواہ وہ سامان تقدیر عام کے ماتحت ہوں یا تقدیر خاص کے ماتحت۔مگر اس کے