تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 332

کرنےکے طریق سے روک دیا تو طبعی طور پر یہ سوال پیدا ہوا کہ پھر یہ اخراجات کس طرح پورے ہوںگے اس کے لئے بتایا کہ ضروریات زندگی پوری کرنےکےبعد جو رقم بچ رہے۔وہ خرچ کرنی چاہیے پھر ایک ہی لفظ عفو استعمال کر کے اس میں مختلف مدارج کا ذکر کر کے بتایا کہ ادنیٰ درجہ کونسا ہے اور اعلیٰ درجہ کونسا؟ اس کے بعد یتامیٰ کے حقوق کو لے لیا۔کیونکہ جنگ کے بعد لازماً اس سوال نے اہمیت اختیار کرلینی تھی۔غرض قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ اس نے اپنے مضامین میں ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی ترتیب رکھی ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے ادھر ایک سوال فطرت انسانی میں پیدا ہوتا ہے اور ادھر قرآن کریم میں اس کا جواب موجود ہوتا ہے۔وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ اور تم مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں نکاح نہ کرو۔اور ایک مومن لونڈی خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا ایک مشرک عورت سے خواہ وہ تمہیں (کتنی ہی) پسند ہو یقیناً بہتر ہے۔اور مشرکوں سے جب الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ تک وہ ایمان نہ لے آئیں (مسلمان عورتیں) مت بیاہو۔اور ایک مومن غلام ایک مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ مشرک (آزاد )سے (بھی) خواہ وہ تمہیں (کتنا ہی) پسند ہو یقیناً بہتر ہے۔یہ لوگ (تو )آگ کی طرف بلاتے اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ يُبَيِّنُ ہیں۔اور اللہ( تعالیٰ) اپنے حکم کے ذریعہ سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔اور لوگوں کے لئے اپنی اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَؒ۰۰۲۲۲ ( معرفت کی) علامات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔حل لغات۔لَاتنْکِحُوا نَکَحَ یَنْکِحُ سے جمع مخاطب نہی کا صیغہ ہے اور نَکَحَ الْمَرْأَ ۃَ کے معنے ہیں